Brailvi Books

آئینہ عبرت
33 - 133
کی تلاش میں نکلا تو میں نے ان کو سکرات کے عالم میں پایا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ ''تم رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے میرا سلام کہہ دینا اور اپنی قوم (انصار)سے بعد سلام میرا یہ پیغام سنا دینا کہ جب تک تم میں سے ایک آدمی بھی زندہ ہے۔ اگر رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تک کفار پہنچ گئے تو خدا عزوجل کے دربار میں تمہارا کوئی عذر بھی قابلِ قبول نہ ہوگا۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روح پرواز کر گئی، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں آکر ان کا سلام عرض کیااور انصار کو انکا پیغام سنا دیا۔(1)(زرقانی ج۲ص۴۸)
(۱۷) حضرت ابوعامر اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تھوڑی سی فوج کا افسر بنا کر ''اوطاس '' کی طرف روانہ فرمادیا وہاں درید بن الصمہ کافر کئی ہزار کی فوج لے کر ان کے مقابلہ کے لیے میدان میں نکل پڑا اور درید بن الصمہ کے بیٹے نے حضرت ابوعامر اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک تیر مارا جوان کے گھٹنے پر لگا اور یہ زخمی ہو کر زمین پر بیٹھ گئے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوڑ کر آئے اور کہا کہ چچاجان! ٌمجھے جلد بتائیے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کس نے تیر مارا ہے؟ تو حضرت ابوعامررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اشارہ سے بتایا کہ وہ شخص میرا قاتل ہے، تو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے چچا کے قاتل پر جوش میں بھرے ہوئے دوڑ پڑے تو وہ بھاگنے لگا مگر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو برابر دوڑاتے رہے۔ یہاں تک کہ اس کو قتل کردیا۔ پھر اپنے چچا حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آکریہ خوش خبری سنائی کہ
1۔۔۔۔۔۔شرح العلامۃ الزرقانی علی المواہب،کتاب المغازی،غزوۃ احد،ج۲،ص۴۴۵
Flag Counter