| آئینہ عبرت |
کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا کر زمین پر بیٹھ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جھپٹے اور آگے بڑھ کر شیبہ کافر کو قتل کردیا اور حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے کاندھے پر اٹھا کر بارگاہ رسالت میں لائے۔ ان کی پنڈلی چور چور ہوگئی تھی اور نلی کا گودا بہہ رہا تھا۔اس حالت میں انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کیا میں شہادت سے محروم رہا؟آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ تم شہادت سے سرفرازہوگئے۔ حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اگر آج میرے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم کے چچا ابوطالب زندہ ہوتے تو وہ مان لیتے کہ ان کے اس شعر کا مصداق میں ہوں۔
ونسلمہ حتی نصرع حولہ ونذھل عن ابناء نا والحلائل
یعنی ہم محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس وقت دشمنوں کے حوالے کریں گے جب ہم لڑلڑ کر ان کے گرد پچھاڑ دیئے جائیں گے اور ہم اپنے بیٹوں اور بیویوں کو بھول جائیں گے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہا اور فوراً ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوگیا۔(1)(ابوداود ج۲ص۳۶۱وزرقانی علی المواہب ج۱ص۴۱۸)
(۱۶) حضرت سعد بن الربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ جنگِ اُحد کے میدان میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے میں حضرت سعد بن الربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش
1۔۔۔۔۔۔شرح العلامۃ الزرقانی علی المواہب،کتاب المغازی،غزوۃ بدرالکبری، ج۲، ص۲۷۶ و سنن ابی داود، کتاب الجھاد، باب فی المبارزۃ ،الحدیث:۲۶۶۵، ج۳،ص۷۲