Brailvi Books

آئینہ عبرت
30 - 133
    عین وفات کے وقت ان کے سرہانے حضورِ انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تشریف فرماتھے جانکنی کے عالم میں انہوں نے آخری بار جمالِ نبوت کا دیدار کیا اور نہایت جوشِ محبت اور جذبہ عقیدت سے والہانہ انداز میں یہ کہا کہ السلام علیک یارسول اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اللہ عزوجل کے رسول ہیں اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تبلیغ رسالت کا حق پورا پورا ادا فرمادیا۔(مدارج النبوۃج۲ص۱۸۱)

اس کے بعد فوراً ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوگئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سال وفات              ۵ھ؁ ہے۔بوقت وفات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف ۳۷ برس کی تھی۔(1)

             (اکمال ص۵۹۶ واسد الغابہ ج۲ص۲۹۸)
 (۱۳) حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    یہ صحابی ہیں ، ان پر خوفِ الٰہی عزوجل کا اتنا غلبہ تھا کہ یہ قرآن مجیدسننے کی تاب نہیں لاتے تھے۔کسی آیت کو سنتے تو ان کی چیخ نکل جاتی تھی اور کئی کئی دنوں تک بے ہوش ہوجایا کرتے تھے ۔ایک مرتبہ قبیلہ خثعم کا ایک قاری آیا اور ان کے سامنے یہ آیت پڑھ دی کہ
یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیۡنَ  اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا ﴿ۙ۸۵﴾  وَنَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰی جَھَنَّمَ وِرْدًا ﴿۸۶﴾    ـ2ـ
یعنی اس دن کو یاد کرو جبکہ ہم متقیوں کو مہمان بنا کر رحمن کے دربار میں جمع کریں گے اور مجرموں کو ہانک کر جہنم میں پیا سا لےجائیں گے
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت، باب چہارم، غزوہ بنی قریظہ، ج۲، ص۱۸۱۔ اکمال مع مشکوٰۃ المصابیح،حرف السین،فصل فی الصحابۃ،ص۵۹۶

2۔۔۔۔۔۔ ترجمہ کنزالایمان:جس دن ہم پرہیز گاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بناکر اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے۔ (پ۱۶،مریم:۸۵،۸۶)
Flag Counter