آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے جاں نثار انصاری صحابی ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ خندق میں زخمی ہوگئے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے مسجدِ نبوی میں ایک خیمہ گاڑا اور ان کا علاج شروع کیا۔خود اپنے دستِ مبارک سے دو مرتبہ ان کے زخم کو داغایہاں تک کہ ان کا زخم بھرنے لگا۔ لیکن انہوں نے شوقِ شہادت میں خداوند تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ یا اللہ! عزوجل تو جانتا ہے کہ مجھے کسی قوم سے جنگ کرنے کی اتنی تمنانہیں ہے جتنی کفارِ قریش سے لڑنے کی تمنا ہے جنہوں نے تیرے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو جھٹلایا اور ان کو وطن سے نکالا۔ اے اللہ!عزوجل میرا تو یہی خیال ہے کہ اب تو نے ہمارے اور کفار قریش کے درمیان جنگ کا خاتمہ کردیا ہے لیکن اگر ابھی کفار قریش سے کوئی جنگ باقی رہ گئی ہو جب تو مجھے زندہ رکھ تاکہ میں تیری راہ میں ان کافروں سے جنگ کروں اور اگراب ان لوگوں سے کوئی جنگ باقی نہ رہ گئی ہو تو تو میرے اس زخم کو پھاڑ دے اور اسی زخم میں تو مجھے شہادت کی موت عطا فرما دے۔
خداعزوجل کی شان کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعا ختم ہوتے ہی بالکل اچانک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زخم پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔(2)
(بخاری ج۲ص۵۹۱باب مرجع النبی من الاحزاب)