Brailvi Books

آئینہ عبرت
26 - 133
مسندکے سہارے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبٹھایااورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیرتک سُبحان اللہ، سبحان اللہ پڑھتے رہے اورزارزارروتے رہے۔پھریہ دعامانگی:
    یَارَبِ ارحم الشیخ العاصی وذا القلب القاسی اللھم اقل العثرۃ واغفر الزلۃ وعد بحلمک علی من لم یرج غیرک ولم یثق باحد سواک۔
اے میرے رب ! گناہگار اور سخت دل بوڑھے پر رحم فرما، گناہوں کو معاف فرمادے اور لغزشوں کو بخش دے۔ اپنے حلم کے ساتھ اس شخص سے برتاؤ فرما جس نے تیرے سوا کسی سے کوئی امید نہیں رکھی نہ تیرے سوا کسی دوسرے پر کوئی بھروسا کیا۔پھر فرمایا کہ مجھے غسل دینے کے بعد شاہی خزانہ سے وہ رومال نکالنا جس میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا مبارک ملبوس اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے مقدس بالوں اور ناخنوں کاتراشہ محفوظ ہے ان مقدس بالوں اور ناخنوں کو میری آنکھوں، میرے منہ، ناک اور کانوں میں رکھ دینا اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا مبارک لباس میرے بدن پر کفن کے نیچے رکھ دینا اور پھر مجھ کو قبر میں لٹا کر مجھے ارحم الراحمین کے سپرد کردینا۔

    محمد بن عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وقتِ وفات آپہنچا تو بڑی حسرت کے ساتھ یہ فرمایا:
یا لیتنی کُنت رَجُلا من قُریش بِذی طویٰ وانی لم اٰل من ھٰذا الامر شیئًا۔
اے کاش! میں قریش کا ایک مرد ہوتا جو مقامِ ''ذی طویٰ'' میں رہ جاتا اور سلطنت کے معاملہ میں کسی چیز کا میں والی نہ بناہوتا۔

    اس کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رُوح عالم بالا کو پرواز کرگئی۔ وفات کے وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرزند ''یزید'' دمشق میں موجود نہیں تھا اس لیے ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کفن دفن کا انتظام کیا اور اسی(یعنی ضحاک) نے
Flag Counter