Brailvi Books

آئینہ عبرت
25 - 133
قَدنَزل من الامرِ مَاترون وانَّ الدنیا قد تغیرت وتنکرت وادبر معروفھا وانشمرت حتی لم یبق منھا الا کصبابۃ الاناء ألاحسبی من عیش کالمرعی الوبیل الا ترون الحق لایعمل بہ والباطل لایتناھی عنہ لیرغب المؤمن فی لقاء اللہ تعالیٰ وانی لااری الموت الاسعادۃ والحیاۃ مع الظالمین الاجرما۔
یقینا مجھ پر وہ معاملہ اُتر پڑ اہے جس کو تم لوگ دیکھ رہے ہو، بلاشبہ دنیا بدل گئی اور اجنبی ہوگئی۔ دنیا کی شرعی باتوں نے پیٹھ پھیرلی۔ اور دنیا کپڑے سمیٹ کر بھاگ نکلی اور دنیا نہیں باقی رہ گئی مگر اتنی ہی جیسے کہ برتن میں تھوڑا سا بچا ہوا پانی، بس میری زندگی کا سازو سامان مضر چراگاہ جیسا رہ گیا ہے کیا تم لوگ دیکھ نہیں رہے ہو کہ حق پر عمل نہیں ہورہا اور باطل سے باز نہیں آرہے ہیں لہذا اب ہر مومن کو خدا عزوجل سے ملاقات کی رغبت ہونی چاہیے اور میں تو موت کو بہت بڑی سعادت اور ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے کو بہت بڑا جرم سمجھتاہوں۔

    اس خطبہ کے بعد فوراً  ہی آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوگئی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کلمۃ الحق کا اعلان کرتے ہوئے ۱۰ محرم   ۶۱ھ؁ کو کربلا میں جامِ شہادت نوش فرمالیا۔(1) (احیاء العلوم ج۴ص۴۰۸)
 (۸) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    رجب  ۶۰ ھ ؁میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لقوہ کی بیماری میں وفات کے قریب ہوگئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں سے فرمایا کہ مجھے بٹھاؤ تو لوگوں نے
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین،کتاب ذکرالموت وما بعدہ، الباب الرابع فی وفاۃ رسول اللہ...الخ، ج۵،ص۲۲۹۔ اسد الغابۃ، الحسین بن علی، ج۲، ص۲۸
Flag Counter