Brailvi Books

آئینہ عبرت
24 - 133
جمعہ کی رات میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی ہوئے اور دو دن زندہ رہ کر جامِ شہادت سے سیراب ہوگئے اور بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ ۱۹ رمضان شب یک شنبہ (اتوار)میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی۔(1) واللہ تعالی اعلم

    (اکمال فی اسماء الرجال ص۶۰۳واحیاء العلوم ج۴ص۴۰۷وتاریخ الخلفاء وغیرہ)
 (۶) حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بوقتِ جانکنی بہت بے صبری و بے قراری ظاہر ہوئی تو حضرت امام حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ بھائی جان ! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قدر گھبرا کیوں رہے ہیں؟آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم و حضرت علی و حضرت فاطمہ و حضرت خدیجہ و حضرت حمزہ و حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بہت جلد ملاقات کرنے والے ہیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ''اے میرے بھائی! میں اِس وقت اللہ تعالیٰ کے ایک ایسے امر میں داخل ہورہا ہوں کہ میں کبھی اس میں داخل نہیں ہوا تھا، اور میں اِس وقت اللہ تعالیٰ کی ایسی مخلوق کو دیکھ رہا ہوں کہ ان کے مثل کو کبھی میں نے دیکھا نہیں تھا۔''یہ الفاظ زَبان مبارک سے نکلے اور ۵ ربیع الاول  ۴۹ھ؁ کو آپ نے وفات پائی۔(2) (تاریخ الخلفاء للسیوطی ص۱۳۱)
 (۷) حضرت امام حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    کربلا میں اپنی شہادت سے تھوڑی دیر پہلے اپنے اصحاب علیہم الرضوان کے مجمع میں ایک خطبہ پڑھا جس میں حمد و صلوۃ کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ ارشاد فرمایا کہ
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفا، فصل فی مبایعۃ علی رضی اللہ عنہ بالخلافۃ...الخ،ص۱۳۹

2۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء ،ریحانۃ الرسول حسن بن علی رضی اللہ عنہ، ص۱۵۲۔۱۵۳
Flag Counter