Brailvi Books

آئینہ عبرت
21 - 133
میرے انتقال کے بعد میرا جنازہ لے کر تم لوگ پھر حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دوبارہ اجازت طلب کرنااگر وہ اجازت دیں تو مجھے روضۂ منورہ میں دفن کرنا ورنہ تم لوگ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں مدفون کردینا۔

    اس کے بعد لوگوں نے اصرار کیا کہ اے امیرالمومنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کسی کو خلیفہ مقرر کردیجئے۔ تو  آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں اس کام کے لیے اُن چھ آدمیوں سے بہتر کسی کو نہیں سمجھتا جن سے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم راضی ہو کر دنیا سے تشریف لے گئے، اور وہ چھ آدمی یہ ہیں:

(۱) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ(۲) حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ(۳) حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۴)حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ(۵) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۶) حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

    ان میں سے اس کو جس پر مسلمانوں کا اتفاق ہوجائے خلیفہ بنالیا جائے۔ خلیفہ بنائے جانے کے وقت میرا بیٹا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی حاضر رہے گا۔ مگر خلافت کے معاملہ میں اس کا کوئی حصہ اور عمل دخل نہ ہوگا۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کے لیے یہ وصیت فرمائی کہ وہ مہاجرین اولین کے اعزاز و اکرام کا خاص طور پر خیال ولحاظ رکھے اور انصار کے ساتھ نیک سلوک اور اچھا برتاؤ کرتا رہے اور شہریوں کے ساتھ بھلائی اور دیہاتیوں کے ساتھ نیک برتاؤ کرے اور ذمیوں کا خاص طریقے سے خیال رکھے اور ان سب لوگوں کے بارے میں کچھ تعریفی کلمات بھی فرمائے۔ پھر فوراً  ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوگیا۔ حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی