Brailvi Books

آئینہ عبرت
20 - 133
اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا کہ میرا قاتل کون ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ ابولولو مجوسی۔ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے کہ
الحمد للہ الذی لم یجعل منیتی بید رجل مسلم
خداعزوجل کے لئے حمدہے کہ اس نے میری موت کسی مرد مسلمان کے ہاتھ سے نہیں بنائی۔پھر لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اٹھا کر مکان پر لائے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کھجور کا شربت پلایا گیا تو وہ شکم سے باہر نکل پڑا۔ پھر دودھ پلایا گیا تو وہ بھی شکم کے راستہ باہر نکل آیا۔ پھر طبیب نے کہہ دیا کہ امیر المومنین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ اب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وصیت کردیں کیونکہ اب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔

    مکان آدمیوں سے بھرا ہوا تھا اور لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدح و ثنا کررہے تھے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سُن کر فرمایا کہ میری تو یہی تمنا ہے کہ میرا دورِ خلافت برابر سرابر ہوجائے ۔ نہ اس کا مجھے کوئی ثواب ملے نہ کوئی مواخذہ ہو۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے فرزند حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو پاس بٹھا کر اپنے قرضوں کی ادائیگی کے بارے میں ہدایتیں فرمائیں اوران کو حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس روضۂ منورہ میں دفن ہونے کی اجازت لینے کے لیے بھیجا۔ جب حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے پاس پہنچے تو وہ رو رہی تھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ روضۂ منورہ کے اندر ایک قبر کی جگہ ہے جس کو میں نے اپنے لیے رکھا تھا مگرآج میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہوں۔ جب حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے واپس ہو کر اجازت کی خوشخبری سنائی تو امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوش ہو کر فرمایا کہ
الحمدُ للہِ ما کان شیء اھم من ذٰلِک
خدا عزوجل کے لیے حمد ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی دوسری چیز میرے لیے اہم نہ تھی۔پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ
Flag Counter