Brailvi Books

آئینہ عبرت
19 - 133
    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ۲۲ جمادی الاخریٰ  ۱۳ھ؁ منگل کی رات میں بمقام مدینہ منورہ ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز ِ جنازہ پڑھائی اور روضۂ منورہ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پہلوئے مبارک میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدفون ہوئے۔بوقت وفات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف ترسٹھ سال تھی۔(1)

                     (تاریخ الخلفاء ص۶۰)

    جب لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقدس جنازہ لے کر حجرهٔ منورہ کے پاس پہنچے لوگوں نے عرض کیا کہ السلام علیک یا رسول اللہ ھذا ابوبکریہ عرض کرتے ہی حجرهٔ مقدسہ کا بند دروازہ ایک دم خود بخود کھل گیا اور تمام حاضرین نے قبرِ انور سے یہ غیبی آواز سنی کہ ادخلوا الحبیب اِلی الحبیب یعنی حبیب کو حبیب کے دربار میں داخل کردو۔(2)(تفسیر کبیرج۵ص۴۷۸)
(۳) حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نمازِ فجر پڑھانے کے لیے مصلیٰ پر کھڑے ہوئے اور تکبیر تحریمہ کہی کہ بالکل اچانک فیروز ابولولو مجوسی نے جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بغض رکھتا تھا، صف سے نکل کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شکم میں خنجر مارا اور بھاگتے ہوئے تیرہ دوسرے نمازیوں کو بھی خنجر ماردیا جن میں سے نو آدمی شہید ہوگئے۔ ایک نمازی نے ابولولو مجوسی کو پکڑ لیا تو اس نے اپنے کو بھی خنجر مار کر خودکشی کرلی۔ پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مصلیٰ پر جا کر مختصر طور پر نماز پڑھائی۔ زخمی ہونے پر حضرت عمر رضی
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،الخلفاء الراشدون، فصل ابو بکرصدیق...الخ، ص۶۵

2۔۔۔۔۔۔التفسیر الکبیر،سورۃالکھف:۹۔۱۲،ج۷،ص۴۳۳
Flag Counter