Brailvi Books

آئینہ عبرت
18 - 133
اس میں زعفران کے کچھ داغ دھبے ہیں۔ اس کو دھولینااور دوسرے دو کپڑے اَور ملا کر انھیں تین کپڑوں کو میرا کفن بنانا تو میں نے کہا یہ تو  پُرانا کپڑا ہے ؟ تو  آپ نے فرمایا کہ نیا کپڑا تو زندوں کا حق ہے، کفن تو مردہ کے گلنے، سڑنے اور پیپ کے لیے ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وصیت فرمائی کہ میری بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا مجھ کو غسل دیں اور میرے فرزند عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ غسل دینے میں میری بیوی کی مدد کریں۔ مجھے یہ منظورنہیں کہ ان دوکے سواکوئی تیسرامیرے ننگے بدن کودیکھے۔(1)(ازالۃ الخفاء ج۲ص۴۲)
بوقت وصال قرآن تھا زباں پر
    پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر فرمایا۔لوگوں نے کہا کہ اے امیرالمومنین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اِتنے سخت مزاج آدمی کو خلیفہ بنادیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خدا عزوجل کو کیا جواب دیں گے؟ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں خدا وندتعالیٰ سے یہی کہہ دوں گا کہ میں نے تیرے بندوں پر ایک بہترین شخص کو خلیفہ بنادیا ۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے سامنے بلا کر کچھ وصیتیں اور نصیحتیں فرمائیں۔ پھر اس کے بعد فوراً  ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوگئی۔بوقتِ وفات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کو تلاوت فرمارہے تھے۔
 وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿۱۹﴾   ـ2ـ
اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ یہ وہی ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔

(پارہ۲۶،سورہ ق آیت۱۹)
1۔۔۔۔۔۔ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء،مقصد دوم،اما مآثرجمیلہ صدیق اکبر،ج۳،ص۱۵۳

2۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان :اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔(پ۲۶،ق:۱۹)
Flag Counter