| آئینہ عبرت |
ملتے اور کلمہ پڑھتے اور چادر مبارک کو کبھی منہ پر ڈالتے کبھی ہٹالیتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سر اقدس کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہوئی تھیں کہ اتنے میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا مقدس ہاتھ اٹھا کر تین مرتبہ فرمایا کہ بل الرفیق الاعلی(اب کوئی نہیں)بلکہ وہ بڑا رفیق چاہیے۔
یہی الفاظ زبان اقدس پر تھے کہ ناگہاں مقدس ہاتھ نیچے تشریف لے آئے اور جسم مقدس حالت سکون میں آگیا۔ اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی روح اقدس عالم قدس میں پہنچ گئی اور آخری لفظ جو زبان ِ اقدس سے ادا ہوا وہ یہی تھا اللّٰھُمَّ الرَّفِیق الاعلیٰ.(1)
(بخاری ج۲ص۶۴۱)اَللّٰھُمَّ صَلّ علیٰ سیّدنا مُحَمد وَّعَلیٰ اٰلِ سیّدنا مُحَمَّد وَّبَارِک وَسَلِّم
(۲) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے مرض وفات کے آخری دن بے ہوش ہوگئے تو میں نے روتے ہوئے کہا کہ ہائے میرے باپ پر عجیب سخت مرض کا حملہ ہوگیا۔ میرے یہ الفاظ سنکر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوش میں آگئے اور مجھ سے فرمایا کہ اے بیٹی! رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کس دن وفات پائی تھی؟ میں نے کہا کہ دو شنبہ (پیر) کے دن۔ پوچھا آج کون سا دن ہے ؟ میں نے کہا کہ دو شنبہ ہے تو فرمایا کہ میری موت آج ہی دن رات کے درمیان ہوگی۔ پھر فرمایا کہ بیٹی میرے بدن پر بیماری کی حالت میں جو کپڑا رہا ہے
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ، الحدیث: ۴۴۳۸،۴۴۴۹، ج۳، ص۱۵۴،۱۵۷، ملخصًا