اَللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیق الْاَعْلیٰ
خداوندا! بڑے رفیق میں اور لا اِلہ الااللہ پڑھتے اور فرماتے تھے کہ بے شک موت کے لیے سختیاں ہیں۔(2) (بخاری ج۲ص۶۴۰)
وفات اقدس سے تھوڑی دیر پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما تازہ مسواک ہاتھ میں لیے حاضر ہوئے، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف نظر جما کر دیکھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سمجھا کہ مسواک کی خواہش ہے۔ انہوں نے فوراً ہی مسواک لے کر دانتوں سے نرم کی اور دستِ اقدس میں دے دی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مسواک فرمائی۔ سہ پہر کا وقت تھا کہ سینہ اقدس میں سانس کی گھر گھرا ہٹ محسوس ہونے لگی۔ اتنے میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس ہونٹ ہلے تو لوگوں نے یہ الفاظ سنے کہ
الصّلوۃُ وَمَا مَلَکَت اَیْمَانُکُم
نماز اور لونڈی غلاموں کا خیال رکھو۔(3)(مشکوٰۃ ص۲۹۱)
اس میں پانی کا ایک طشت تھا۔ اس میں بار بار ہاتھ ڈالتے اور چہرہ انور پر
1۔۔۔۔۔۔پ۵،النساء:۶۹
2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ، الحدیث:۴۴۳۵،۴۴۴۹، ج۳، ص۱۵۳،۱۵۷، ملخصًا
3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،الحدیث:۴۴۴۹،ج۳،ص۱۵۷۔دلائل النبوۃ للبیہقی،باب مایؤثر...الخ،ج۷،ص۲۰۵،ملتقطاً