Brailvi Books

آئینہ عبرت
16 - 133
اپنے سینے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک میرے سینے اورحلق کے درمیان تھا اور بار بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یہ پڑھتے رہے کہ
مَعَ الَّذِیۡنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِمۡ    ـ1ـ
یعنی ان لوگوں کے ساتھ جن پر خدا کا انعام ہے
اور کبھی یہ فرماتے کہ
اَللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیق الْاَعْلیٰ
خداوندا! بڑے رفیق میں اور لا اِلہ الااللہ پڑھتے اور فرماتے تھے کہ بے شک موت کے لیے سختیاں ہیں۔(2) (بخاری ج۲ص۶۴۰)
مسواک سے محبت
  وفات اقدس سے تھوڑی دیر پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما تازہ مسواک ہاتھ میں لیے حاضر ہوئے، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف نظر جما کر دیکھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سمجھا کہ مسواک کی خواہش ہے۔ انہوں نے فوراً  ہی مسواک لے کر دانتوں سے نرم کی اور دستِ اقدس میں دے دی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مسواک فرمائی۔ سہ پہر کا وقت تھا کہ سینہ اقدس میں سانس کی گھر گھرا ہٹ محسوس ہونے لگی۔ اتنے میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس ہونٹ ہلے تو لوگوں نے یہ الفاظ سنے کہ
الصّلوۃُ وَمَا مَلَکَت اَیْمَانُکُم
نماز اور لونڈی غلاموں کا خیال رکھو۔(3)(مشکوٰۃ ص۲۹۱)
اس میں پانی کا ایک طشت تھا۔ اس میں بار بار ہاتھ ڈالتے اور چہرہ انور پر
1۔۔۔۔۔۔پ۵،النساء:۶۹

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ، الحدیث:۴۴۳۵،۴۴۴۹، ج۳، ص۱۵۳،۱۵۷، ملخصًا

3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،الحدیث:۴۴۴۹،ج۳،ص۱۵۷۔دلائل النبوۃ للبیہقی،باب مایؤثر...الخ،ج۷،ص۲۰۵،ملتقطاً
Flag Counter