(۳) جنتی نمازیں قضاء ہوئی ہیں، بالغ ہونے کے وقت سے سب کا ايسا حساب لگائیں کہ تخمینے میں کوئی نماز نہ رہ جائے، زیادہ ہوجائیں تو حرج نہیں اور وہ سب بقدرِ طاقت رفتہ رفتہ بہت جلد ادا کریں کاہلی نہ کریں کہ موت کا وقت معلوم نہیں اور جب تک فرض ذمہ پر باقی ہوتا ہے کوئی نفل قبول نہیں ہوتا۔جب چند نمازیں قضا ہوں مثلاً سو بار کی فجر قضا ہے تو ہر بار یوں نیت کریں کہ سب میں پہلی وہ فجر جو مجھ سے قضا ہوئی، یعنی جب ایک ادا ہوئی تو باقیوں میں سب سے پہلی ہے میں وہ پڑھ رہا ہوں اسی طرح ظہر و عصر وغیرہ ہر نماز میں نیت کریں، فقط فرض و وتر یعنی ہر دن کی ۲۰ رکعتیں قضا میں پڑھی جائیں گی۔ سنتوں اور نفلوں کی قضا ضروری نہیں۔
(۴) جتنے روزے بھی قضا ہوئے ہوں دوسرا رمضان آنے سے پہلے اد ا کرلیے جائیں، کیونکہ جب تک پچھلے رمضان کے روزوں کی قضا نہ کرلی جائے اگلے روزے قبول نہیں ہوتے۔
(۵) جو صاحبِ مال ہیں وہ زکوۃ بھی دیں ، جتنے برسوں کی نہ دی ہو فوراً حساب لگا کر اداکریں، ہر سال کی زکوۃ سال تمام ہونے سے پہلے دے دیا کریں سال تمام ہونے کے بعد دیر لگانا گناہ ہے لہذا شروع سال سے رفتہ رفتہ دیتے رہیں۔ سال تمام ہونے پر حساب کریں، اگر ادا ہوچکی تو بہتر ورنہ جتنی باقی ہو فوراً دے دیں اور اگر کچھ زیادہ نکل گیا ہے تو آئندہ سال میں مُجرا کرلیں۔