Brailvi Books

آئینہ عبرت
13 - 133
بسم اللہ الرحمن الرحيم 

نحمدہٗ ونصلی علٰی رسولہ الکریم
سببِ تالیف
   شعبان   ۱۴۰۵؁ھ کودارالعلوم تنویر الاسلام امرڈوبھاضلع بستی کے سالانہ اجلاس میں دستاربندی وختم بخاری شریف کے لئے جب میں حاضرہواتوعین اس وقت جبکہ دار العلوم کی مسجد''تنویرالمساجد''کے سنگ بنیادکی تقریب ہورہی تھی،بالکل ناگہاں حضرت غازی ملت مولاناسیدمحمدہاشمی صاحب کچھوچھوی مدظلہ العالی مجھ سے پوچھ بیٹھے کہ آپ کی تصانیف کی تعدادکتنی ہوچکی؟میں نے عرض کیا:کہ چوبیسویں تالیف''سامان آخرت'' مکمل کرچکاہوں۔یہ سن کرحضرت موصوف الصدرنے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ایک کتاب خواہ چھوٹی ہی سہی اوربھی جلدلکھ دیجئے تاکہ پچیس ہوجائیں چوبیس کا عدد ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ان دنوں میری پشت میں کار بنکل (گوشت خورپھوڑا)نکلا ہوا تھا جس کی تکلیف رمضان شریف میں بھی رہی۔لیکن مولاناالعزیز کی فرمائش کامجھے برابر خیال لگارہا چنانچہ شوال میں جب براؤں شریف حاضرہوگیا تو اس کتاب کی تدوین شروع کردی جو بحمدہ تعالیٰ تقریباًتین ماہ میں مکمل ہوگئی۔

    اس کتاب میں مندرجہ ذیل دس عنوانوں پرچندمعتبرکتابوں کے حوالوں کو میں نے درج کردیاہے جوبہت ہی اثرانگیزوعبرت خیزہیں۔

(۱)بوقت وفات کس نے کیاکہا؟(۲)جنازہ یاقبرکودیکھ کرکس نے کیاکہا؟ (۳)اولاد کی موت پرکس نے کیاکہا؟(۴)اموات کے لئے کس نے کیاخواب دیکھا؟(۵)غلبۂ
Flag Counter