| آئینہ عبرت |
جنتی اپنی اپنی سواریوں پرنہایت ہی احترام سے لائے جائیں گے وہ گروہ درگروہ جنت کی طرف تعظیم وتکریم کے ساتھ بلائے جائیں گے اورجب اس مقدس گروہ کی رسائی جنت کے شانداردروازوں کے پاس ہوگی توایک دم تمام دروازے کھل جائیں گے اور استقبال کرنے والے ملائکہ کی مقدس جماعت ہرطرف سے سلام واکرام اورخوش آمدیدکانعرہ بلندکرے گی ۔جنتی نہایت ہی ہشا ش بشاش اورخوش وخرم ہوکرجنت میں داخل ہوں گے اوریہ کہتے ہوں گے کہ الحمدللہ!کہ خداوندتعالیٰ نے اپنا وعدہ ہمیں سچ کردکھایااورہمیں اس زمین جنت کاوارث بنادیاکہ ہم جہاں چاہیں رہیں تو واہ واہ!عمل صالح کرنے والوں کاثواب کیاہی خوب ہے اورعرش کے گردحلقہ باندھے ہوئے جذبۂ سروروجوش مسرت کے ساتھ ملائکہ مقربین حمدوتسبیحِ الٰہی کانعرہ لگاتے ہوں گے ۔چنانچہ قرآن مجیداپنے قدسی اندازبیان میں اس کی منظرکشی کرتے ہوئے ارشادفرماتاہے کہ
وَسِیۡقَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ اِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡہَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُہَا وَ قَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیۡکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوۡہَا خٰلِدِیۡنَ ﴿۷۳﴾وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیۡ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیۡثُ نَشَآءُ ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ
اور جو اپنے رب سے ڈرتے تھے انکی سواریاں گروہ گروہ جنت کی طرف چلائی جائینگی یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہونگے اور اسکے دروغہ ان سے کہیں گے کہ سلام تم پر تم خوب رہے تو جنت میں جاؤ ہمیشہ رہنے کے ليے اور جنتی کہیں گے کہ سب خوبیاں اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیااور ہمیں زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں رہیں جہاں چاہیں تو کیا ہی بہترین بدلہ ہے نیک عمل کرنےوالوں کا اور تم