Brailvi Books

آئینہ عبرت
127 - 133
جنت کے مہمان
    جنتی اپنی اپنی سواریوں پرنہایت ہی احترام سے لائے جائیں گے وہ گروہ درگروہ جنت کی طرف تعظیم وتکریم کے ساتھ بلائے جائیں گے اورجب اس مقدس گروہ کی رسائی جنت کے شانداردروازوں کے پاس ہوگی توایک دم تمام دروازے کھل جائیں گے اور استقبال کرنے والے ملائکہ کی مقدس جماعت ہرطرف سے سلام واکرام اورخوش آمدیدکانعرہ بلندکرے گی ۔جنتی نہایت ہی ہشا ش بشاش اورخوش وخرم ہوکرجنت میں داخل ہوں گے اوریہ کہتے ہوں گے کہ الحمدللہ!کہ خداوندتعالیٰ نے اپنا وعدہ ہمیں سچ کردکھایااورہمیں اس زمین جنت کاوارث بنادیاکہ ہم جہاں چاہیں رہیں تو واہ واہ!عمل صالح کرنے والوں کاثواب کیاہی خوب ہے اورعرش کے گردحلقہ باندھے ہوئے جذبۂ سروروجوش مسرت کے ساتھ ملائکہ مقربین حمدوتسبیحِ الٰہی کانعرہ لگاتے ہوں گے ۔چنانچہ قرآن مجیداپنے قدسی اندازبیان میں اس کی منظرکشی کرتے ہوئے ارشادفرماتاہے کہ
وَسِیۡقَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ اِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡہَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُہَا وَ قَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیۡکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوۡہَا خٰلِدِیۡنَ ﴿۷۳﴾وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیۡ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیۡثُ نَشَآءُ ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ
اور جو اپنے رب سے ڈرتے تھے انکی سواریاں گروہ گروہ جنت کی طرف چلائی جائینگی یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہونگے اور اسکے دروغہ ان سے کہیں گے کہ سلام تم پر تم خوب رہے تو جنت میں جاؤ ہمیشہ رہنے کے ليے اور جنتی کہیں گے کہ سب خوبیاں اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیااور ہمیں زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں رہیں جہاں چاہیں تو کیا ہی بہترین بدلہ ہے نیک عمل کرنےوالوں کا اور تم
Flag Counter