Brailvi Books

آئینہ عبرت
126 - 133
کہہ کر انہیں ذلت کے ساتھ جہنم میں پھینک دیں گے کہ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ جہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمہیں عذابوں میں گرفتار ہو کر رہنا ہے اور یہ جہنم متکبروں کا اتنا برا اور اس قدر بدترین ٹھکانا ہے کہ اس سے زیادہ برا اور اس سے بڑھ کر بدترین ٹھکانا کوئی سوچا ہی نہیں جاسکتا، چنانچہ قرآن مجید نے اپنے معجزانہ انداز بیان میں اس ہولناک منظر کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرمایا کہ
وَسِیۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی جَہَنَّمَ زُمَرًا ؕ حَتّٰی اِذَا جَآءُوۡہَا فُتِحَتْ اَبْوَابُہَا وَ قَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَاۤ اَلَمْ یَاۡتِکُمْ رُسُلٌ مِّنۡکُمْ یَتْلُوۡنَ عَلَیۡکُمْ اٰیٰتِ رَبِّکُمْ وَ یُنۡذِرُوۡنَکُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا ؕ قَالُوۡا بَلٰی وَلٰکِنْ حَقَّتْ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ ﴿۷۱﴾قِیۡلَ ادْخُلُوۡۤا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۷۲﴾  ـ1ـ
اور کافر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے گروہ گروہ یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے تو دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کے ملنے سے ڈراتے تھے کہیں گے کیوں نہیں مگر عذاب کا قول کافروں پر برحق ہوافرمایاجائے گا چلے جاؤ جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ رہنے کے لیے تو کیا ہی برا ٹھکانا ہے وہ متکبروں کا۔(پ24،الزمرآیت71۔72)
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:اورکافرجہنم کی طرف ہانکے جائیں گے گروہ گروہ یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اس کے دروازے کھولے جائیں گے اوراس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیاتمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جوتم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کے ملنے سے ڈراتے تھے کہیں گے کیوں نہیں مگر عذاب کاقول کافروں پرٹھیک اترا فرمایا جائے گاداخل ہو جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے توکیا ہی براٹھکانا متکبروں کا۔(پ۲۴،الزمر:۷۱۔۷۲)
Flag Counter