جہنم چونکہ غضب خداوندی عزوجل اور اس کے عذاب و عتاب کا مظہر ہے اس لیے اس کے دروازے غضب الہی کے نشان ہیں جہنمیوں کو عذاب کے فرشتے گروہ در گروہ نہایت ذلت و حقارت کے ساتھ اپنی ڈانٹ ڈپٹ اور کرخت آوازوں سے جانوروں کی طرح ہانکتے ہوئے جہنم کے پھاٹکوں کی طرف چلاتے ہوں گے اور جہنمی گروہ منہ لٹکائے نہایت ہی غمگین وحزین صورت بنائے جب کہ ان کے چہرے سیاہ اور خوف و ہراس اور مایوسی و نامرادی کی وجہ سے ان پر دھوئیں اڑ رہے ہوں گے۔ شرم و ندامت سے سرجھکائے آنکھیں نیچے کیے ہوئے جہنم میں داخل کرنے کے لیے لائے جائیں گے اور جیسے ہی جہنم کے بڑے بڑے دروازوں پرپہنچیں گے تو پہلے فرشتوں کی لعنت و ملامت اور ان کی دھتکارو پھٹکار سنیں گے۔ پھر عذاب جہنم کے فرشتے اپنی نہایت ہی سخت و کرخت آوازوں میں ڈانٹ کر ان سے پوچھیں گے کہ کیا دنیا میں خداعزوجل کے رسول علیہم السلام تمہارے پاس تمہیں خدا عزوجل کی آیتیں سنانے اور اس برے دن سے ڈرانے کے لیے نہیں آئے تھے؟ تو سب جہنمی اپنی سہمی اور بھرائی ہوئی آوازوں سے اپنے جرم کا اقرار کریں گے، اور کہیں گے کہ کیوں نہیں اللہ عزوجل کے رسول علیہم السلام یقیناً ہمارے پاس آئے تھے اور انہوں نے طرح طرح سے ہم لوگوں کو سمجھایااوراس دن کے عذاب سے ہمیں ڈرایا تھا مگر ہماری شامت تھی کہ ہم نے ان کی صداقت اور حقانیت بھری تقریروں کو جھٹلایا جس کا انجام ہم نے آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ ہم پر عذاب کی بات پوری ہو کررہی۔ پھر عذاب کے فرشتے یہ