دربار کے لئے ہوگا یا ان کفارسے بیزاری اور شفاعت کے انکار کے لئے۔ پھر دوسرے وقت یہی نبی اپنی قوم کی شکایت فرمائیں گے ۔ رب فرماتا ہے :
وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہۡجُوۡرًا ﴿۳۰﴾ (پ19، الفرقان:30)
ترجمہ کنزالایمان: اور رسول نے عرض کی کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ نے کے قابل ٹھہرالیا۔لہٰذا اس آیت سے انبیاء کی بے علمی ثابت نہیں ہوتی نہ ان کا کذب لازم آتا ہے نیز آیات میں کسی قسم کا تعارض بھی نہیں۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ انبیاکرام اپنی قوم کی تکالیف اور ان کی تکذیب کو بھول جاویں۔قیامت میں تو ہر شخص کو دنیا کے کام یاد آجائیں گے۔ رب فرماتا ہے:
یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنۡسَانُ مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۵﴾ (پ30النٰزعٰت:35)
ترجمہ کنزالایمان:اس دن آدمی یاد کریگا جو کوشش کی تھی۔(نورالعرفان) تفسیر نعیمی میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: نہ یہ مقصد ہے کہ وہ حضرات اس د ن کی گھبراہٹ سے سب کچھ بھول گئے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو اس گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا، فرماتا ہے
لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ؕ (پ17،الانبیاء:103)
ترجمہ کنزالایمان: انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ اور فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے۔ اور فرماتا ہے :
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ (پ ۱۱،یونس:۶۲)
ترجمہ کنزالایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔(تفسیر نعیمی ج۷،ص۱۳۵) واللہ تعالیٰ اعلم ۔
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کودو خدا بنالو اللہ کے سوا۔
(پ۷،المآئِدۃ:۱۱۶)