Brailvi Books

آئینہ عبرت
121 - 133
الامان و الحفیظ !
سب سے پہلے انبیاء کرا م علی نبیناوعلیہم الصلاۃوالسلام کی مقدس جماعت حساب فہمی کے لیے پیش ہوگی اور اللہ عزوجل ان مقدس نفوس سے سوال فرمائے گا جب تم لوگوں نے میرے احکام اپنی اپنی قوموں کو پہنچائے تو تمہاری قوموں نے تم کو کیا جواب دیا؟تو اس سوال کی عظمت و ہیبت سے انبیائے کرام علی نبیناوعلیہم الصلاۃوالسلام کی عقلیں مبہوت ہوجائیں گی اور ان کا علم اس قدر فراموش ہوجائے گا کہ وہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں، بے شک تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے چنانچہ ارشاد قرآنی ہے کہ
یَوْمَ یَجْمَعُ اللہُ الرُّسُلَ فَیَقُوۡلُ مَاذَاۤ اُجِبْتُمْ ؕ قَالُوۡا لَا عِلْمَ لَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الْغُیُوۡبِ ﴿۱۰۹﴾  ـ1ـ
(یاد کرو) جب اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کرکے فرمائے گا کہ تمہاری قوموں نے تمہیں کیا جواب دیا تھا ؟ تو سب یہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں بےشک سب غیب کی باتوں کو تو ہی جاننے والا ہے(پ7،المآئِدۃآیت109)
    حقیقت میں رسولوں کو سب کچھ معلوم تھا مگر اس وقت شدت ہیبت اور جلال خداوندی کی دہشت سے ان کی عقلیں خوفزدہ ہو کرمبہوت ہوچکی ہوں گی اور ان کا سارا علم فراموش ہوچکا ہوگا۔ اس لیے ان کا یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ ہمیں کچھ معلوم ہی نہیں(2)جس وقت وہ قہار وجبار حضرت عیسیٰ علی نبیناوعلیہ الصلاۃوالسلام سے یہ تہدید آمیز سوال
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:جس دن اللہ جمع فرمائے گا رسولوں کوپھرفرمائے گا تمہیں کیا جواب ملا عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں بے شک توہی ہے سب غیبوں کا خوب جاننے والا۔(پ۷،المآئِدۃ: ۱۰۹)

2 ۔۔۔۔۔۔صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی اس آیت مبارکہ کے جزء

قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا......الخ کے تحت فرماتے ہیں :انبیا کا یہ جواب ان کے کمال ادب کی شان ظاہر کرتا ہے کہ وہ علم الٰہی کے حضور اپنے علم کو اصلاً نظرمیں نہ لائیں گے اور قابل ذکر قرار نہ دیں گے اور معاملہ اللہ تعالیٰ کے علم و عدل پر تفویض فرمادینگے۔(خزائن العرفان)

حکیم الامت مفتی احمدیار خاں نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں:یہ جواب اول قیامت میں ادب
Flag Counter