Brailvi Books

آئینہ عبرت
120 - 133
 قرآن مجید میں خداوند قدوس کا فرمان ہے کہ
ہَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ ﴿ۚ۶۰﴾  ـ1ـ
یعنی احسان کا بدلہ تو احسان ہی ہے
    ماں باپ اور بزرگوں کا احسان تو یہ ہوا کہ انہوں نے ہم کو پالا پھر وہ ہم کو مکان و جائیداد دے گئے تو ہمیں بھی لازم ہے کہ ان کے احسانوں کا بدلہ دیں کہ ان کو بھلائی کے ساتھ یاد رکھیں اور ان کے لیے دعاء و استغفار کرتے رہیں اور فاتحہ کے ذریعے ان کو ایصال ثواب اور ان کی روحوں کو ثواب پہنچاتے رہیں۔ بہرحال ہر مسلمان کا یہ لازمی کارنامہ ہونا ہی چاہیے کہ وہ اپنے ماں ، باپ ، دادی، دادااور اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو ہمیشہ یاد رکھیں اور کبھی بھی ان کی قبروں کی زیارت اور ان کی فاتحہ و ایصال ثواب اور دعائے مغفرت و استغفار سے ہرگز ہرگز غافل نہ رہیں۔
ع   مانو نہ مانو آپ کو یہ اختیار ہے 

                   ہم نیک و بد جناب کو سمجھائے جائیں گے
وما علینا الا البلاغ وما توفیقی الا باللہ وھو حسبی ونعم الوکیل
(۹) حسابِ خداوندی کا کیا منظرہوگا؟
    خداوند قہار و جبار کے دربار میں بندوں کے حساب و کتاب کا منظر بہت ہی مہیب اور بے حد خوفناک ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتے جو بہت ہیبت ناک اور انتہائی خوفناک ہوں گے وہ اپنی کرخت آواز سے ڈانٹ کر جھڑکتے اور ہانکتے ہوئے لوگوں کو دربارِ خداوندی میں حاضر کریں گے اور خداوند قدوس ایسے غضب وجلال میں ہوگا کہ
1۔۔۔۔۔۔ ترجمہ کنزالایمان :نیکی کابدلاکیاہے مگرنیکی۔ (پ۲۷،الرحمٰن:۶۰)
Flag Counter