کاش ! مسلمانوں کو ان حقائق سے کچھ سبق ملتا اور انہیں عبرت حاصل ہو کر ہدایت کی روشنی اور توفیق نصیب ہوتی جو اپنے ماں باپ اور بھائیوں بہنوں اور بیٹوں وغیرہ اعزہ و اقرباء کو قبروں میں دفن کرنے کے بعد پھر ان کا کچھ بھی خیال نہیں رکھتے۔ نہ ان کی قبروں کی زیارت کے لیے کبھی قبرستان میں قدم رکھتے ہیں۔ نہ کبھی دعائے مغفرت کرتے ہیں نہ صدقہ و خیرات اور نیاز وفاتحہ کے ذریعے کبھی ایصال ثواب کرتے ہیں نہ ان کے لیے کبھی قرآن خوانی کرائیں نہ محتاجوں کو کھانا کھلا کر اور کپڑا پہنا کر ان کی روحوں کو ثواب پہنچائیں۔ نہ چہلم نہ ششماہی نہ برسی پر انہیں یاد رکھ کر ان کی فاتحہ دلائیں بلکہ اب تو وہابیوں نے یہ غضب ڈھایا کہ زیارت قبور اور نیاز و فاتحہ کو قبر پرستی اور بدعت قرار دے کر مسلمانوں کا اپنے مردہ عزیزوں سے بالکل ہی رشتہ و تعلق کاٹ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اپنے ماں باپ اور بزرگوں کو اس طرح بھول گئے کہ کبھی بھولے سے بھی ان کو یاد نہیں کرتے۔ احسان فراموشی اور مطلب پرستی کی اس سے زیادہ گھناؤنی مثال اور کیا ہوگی کہ ماں باپ اور بھائیوں بہنوں کے وارث بن کر ان کی جائیدادوں پر تو قابض ہو کر مزے اڑا رہے ہیں مگر ان بزرگوں اور عزیزوں کو کبھی یاد کرکے ان کی روحوں کو کسی قسم کا ثواب نہیں پہنچاتے۔ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے باپ داداؤں نے کتنی محنت و مشقت اٹھا کر ان مکانوں اور جائیدادوں کو بنایا ہوگا جو ہمیں مفت میں دے کر دنیا سے چلے گئے تو ہم ان کا شکریہ اس طرح ادا کرتے رہیں کہ ان کی قبروں پر حاضر ہو کر کبھی کبھی فاتحہ پڑھتے اور دعائے مغفرت کرتے رہیں۔