| آئینہ عبرت |
تم بدل گئے۔ میری آنکھ کھل گئی اور میں نے ابوسعید صفار رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے اس خواب کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ کیا بتاؤں میں ہر جمعہ کو ان کی قبر کی زیارت کے لیے جایا کرتا تھا اور کچھ ایصالِ ثواب کیا کرتا تھا لیکن اس جمعہ کو میں نہیں جاسکا اسی کی ان کو مجھ سے شکایت ہوگئی ہے۔(1)(احیاء العلوم ج ۴ ص۴۲۳)
(۱۰) حضرت بشار بن غالب نجرانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت رابعہ بصریہ عدویہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے لیے بکثرت دعائیں مانگا کرتا تھا تو ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھ سے کہہ رہی ہیں کہ اے بشار بن غالب! رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ تمہاری دعائیں ہدیہ کی شکل میں نور کی تھالیوں میں ریشمی رومال سے چھپا کر ہمارے پاس آیا کرتی ہیں۔ تو میں نے کہا کہ وہ کیسے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ یاد رکھو زندوں کی دعائیں اموات کے لیے مقبول ہو کر نور کے طباق میں رکھ کر ریشمی کپڑے کے سر پوش سے چھپا کرمردوں کے پاس لائی جاتی ہیں اور لانے والا فرشتہ کہتا ہے کہ یہ فلاں شخص کا ہدیہ ہے جو اس نے تمہارے پاس بھیجا ہے اور رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قبر میں میت کی مثال یہ ہے کہ جیسے ڈوبنے والا فریاد کرنے والا آدمی۔ہر وقت قبر میں مردوں کو انتظار رہتا ہے کہ اس کے باپ یا بیٹوں یا بھائیوں یا دوستوں کی طرف سے دعاؤں اور ایصال ثواب (فاتحہ) کا کوئی ہدیہ اس کے پاس آئے گا اور جب ہدیہ آجاتا ہے تو اس کو دنیابھرکی نعمت پا جانے سے بڑھ کرخوشی حاصل ہوتی ہے۔(2)(احیاء العلوم ج۴ص۴۱۷)
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب الثامن،بیان منامات المشائخ، ج۵،ص۲۶۷ 2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السادس،بیان زیارۃ القبور والدعاء للمیت وما یتعلق بہٖ ،ج۵،ص۲۴۴