علی بن موسیٰ حداد کا بیان ہے کہ میں امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ ایک جنازہ میں گیا اور محمد بن قدامہ جوہری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بھی ہمارے ہمراہ تھے ۔ جب میت دفن ہوگئی تو ایک نابینا قبر کے پاس قرآن مجید پڑھنے لگا تو امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے کہا کہ اے فلاں! قبر کے پاس قرآن مجید پڑھنا بدعت ہے۔ پھر جب ہم لوگ قبرستان سے باہر آئے تو محمد بن قدامہ جوہری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے کہا کہ آپ مبشربن اسمٰعیل حلبی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کہا کہ وہ قابلِ بھروسا اور ثقہ محدث ہیں۔ تو محمد بن قدامہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا کہ وہ حدیث میں آپ کے استاذ بھی ہیں؟ تو امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کہا کہ جی ہاں تو محمد بن قدامہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کہا کہ مجھے مبشر بن اسمٰعیل حلبی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے خبر دی کہ عبدالرحمن بن علاء بن لجلاج رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے وصیت کی تھی کہ دفن کے بعد میرے سرہانے سورۂ بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیتیں پڑھی جائیں اور انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر کو وصیت کرتے سنا ہے، یہ سن کر امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے علی بن موسیٰ حداد کو بھیجا کہ جا کر اس نابینا سے کہہ دو کہ وہ قبر کے پاس قرآن مجید پڑھا کرے۔(1)(احیاء العلوم ج ۴ ص۴۱۸)