یہ بہت ہی عظیم المرتبت محدث ہیں اور عبادت و ریاضت اور زہد و تقویٰ میں بھی بہت اونچا مقام رکھتے ہیں۔روزانہ پانچ سو رکعت نوافل اور ہر تیسرے دن قرآن مجید ختم کرنا ان کا معمول تھا۔ ۱۸۰ھ میں ان کا وصال ہوا، ان کا بیان ہے کہ طاعون (پلیگ) کے زمانے میں ایک آدمی روزانہ قبرستان جایا کرتا تھا اور جنازوں پر نماز پڑھ کر گھر آتا تھا۔ پھر شام کو قبرستان جا کر یہ دعا مانگتا تھا کہ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کی وحشت کا مونس بنائے اور تمہاری غربت پر رحم فرمائے اور تمہاری نیکیوں کو قبول فرمائے۔اس آدمی کا بیان ہے کہ میں ایک شام کو قبرستان نہیں گیا تو رات کو میں نے خو اب دیکھا کہ ایک کثیر جماعت میرے پاس آئی اور جب میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ کس ضرورت سے آپ لوگ میرے پاس آئے ہیں تو ان لوگوں نے بتایا کہ روزانہ تمہاری دعائیں ہمارے پاس آیا کرتی تھیں لیکن ایک دن تمہاری دعاؤں کا ہدیہ ہم لوگوں کے پاس نہیں آیا اس کی کیاوجہ ہے؟ اس خواب کے بعد کبھی میں نے قبرستان جا کر دعائیں مانگنا نہیں چھوڑا۔(2)(احیاء العلوم ج ۴ ص۴۱۷)