Brailvi Books

آئینہ عبرت
115 - 133
یہ کہتے ہیں کہ میں نے سینکڑوں مرتبہ سے زیادہ دیکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہما روضۂ اقدس پر حاضر ہوتے اور رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو سلام کرکے گھر واپس جایا کرتے تھے۔(1)

                     (احیاء العلوم ج ۴ص۴۱۷)
 (۵) حضرت بشر بن منصور رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
    یہ بہت ہی عظیم المرتبت محدث ہیں اور عبادت و ریاضت اور زہد و تقویٰ میں بھی بہت اونچا مقام رکھتے ہیں۔روزانہ پانچ سو رکعت نوافل اور ہر تیسرے دن قرآن مجید ختم کرنا ان کا معمول تھا۔ ۱۸۰ھ؁ میں ان کا وصال ہوا، ان کا بیان ہے کہ طاعون (پلیگ) کے زمانے میں ایک آدمی روزانہ قبرستان جایا کرتا تھا اور جنازوں پر نماز پڑھ کر گھر آتا تھا۔ پھر شام کو قبرستان جا کر یہ دعا مانگتا تھا کہ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کی وحشت کا مونس بنائے اور تمہاری غربت پر رحم فرمائے اور تمہاری نیکیوں کو قبول فرمائے۔اس آدمی کا بیان ہے کہ میں ایک شام کو قبرستان نہیں گیا تو رات کو میں نے خو اب دیکھا کہ ایک کثیر جماعت میرے پاس آئی اور جب میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ کس ضرورت سے آپ لوگ میرے پاس آئے ہیں تو ان لوگوں نے بتایا کہ روزانہ تمہاری دعائیں ہمارے پاس آیا کرتی تھیں لیکن ایک دن تمہاری دعاؤں کا ہدیہ ہم لوگوں کے پاس نہیں آیا اس کی کیاوجہ ہے؟ اس خواب کے بعد کبھی میں نے قبرستان جا کر دعائیں مانگنا نہیں چھوڑا۔(2)(احیاء العلوم ج ۴ ص۴۱۷)
1۔۔۔۔۔۔ احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السادس،بیان زیارۃ القبور والدعاء للمیت وما یتعلق بہٖ ،ج۵،ص۲۴۳

2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السادس،بیان زیارۃ القبور والدعاء للمیت وما یتعلق بہٖ ،ج۵،ص۲۴۴
Flag Counter