Brailvi Books

آئینہ عبرت
113 - 133
  (۸)اموات کو سلام و ثواب کس طرح پہنچتا ہے؟
    اس پر اہلِ سنت و جماعت کے تمام اماموں کا اجماع و اتفاق ہے کہ زندوں کا سلام و دعا و ایصالِ ثواب مردوں کو پہنچتا ہے اور ان کے لیے نفع بخش و فائدہ مند ہے، ہدایہ شریف میں ہے کہ
الاصل فی ھذاالباب ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوۃ اوصوما اوصدقۃ اوغیرھا عنداھل السنۃ والجماعۃ۔(1)(ہدایہ ج۱ ص۲۷۶ باب الحج عن الغیر)
قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ انسان کے لیے جائز ہے کہ اپنے عمل کا ثواب اپنے غیر کو پہنچا دے خواہ نماز ہو یا روزہ یا صدقہ یا ان کے علاوہ کوئی بھی عمل ہو، یہ اہلِ سنت و جماعت کا مذہب ہے۔

    اب اس سلسلے میں ہم چند بزرگوں کے اقوال یہاں نقل کرتے ہیں جن سے ہدایت کا نور طلوع ہوتا ہے امید ہے کہ ان سے ہر طالبِ حق کو روشنی ملے گی۔
 (۱) حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
    حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک میت کی نماز جنازہ پر یہ دعا فرمائی جس کو میں نے یاد کرلیا کہ اے اللہ! عزوجل اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما اور اس کو عافیت دے اور اس کی مہمانی باعزت فرما اور اس کی قبر کو وسیع فرمادے اور اس کو پانی اور برف اور اولے سے دھو دے اور اس کو گناہوں سے اس طرح صاف کردے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف رکھا ہے، اور اس کو اس کے گھر کے بدلے میں اس سے بہتر گھر عطا فرما اور اس کے اہل سے بہتر اہل اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی عنایت فرما اور اس کو
1۔۔۔۔۔۔الھدایۃ، کتاب الحج،باب الحج عن الغیر،ج۱،ص۱۷۸
Flag Counter