| آئینہ عبرت |
وہ قبر میں اتارے گئے اور مٹی برابر کردی گئی تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تسبیح پڑھی اور ہم لوگ بھی دیر تک تسبیح پڑھتے رہے۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تکبیر پڑھی اور ہم بھی دیر تک تکبیر پڑھتے رہے تو کسی نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تسبیح وتکبیر کیوں پڑھی ؟تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس بندہ صالح پر اس کی قبر تنگ ہوگئی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے کشادہ فرمادی۔(1)(مشکوٰۃ ج۱ ص۲۶)
حدیث : ۵
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اپنی صاحبزادی بی بی ز ینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دفن میں تشریف لے گئے اور وہ بکثرت بیمار ہوا کرتی تھیں تو جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ان کی قبر میں اترے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا چہرہ انور زرد ہوگیا، پھر جب قبر سے باہر تشریف لائے تو خوشی سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا چہرهٔ انور چمکنے لگا تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ!عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ایسا کیوں ہوا؟ تو فرمایا کہ قبر نے میری بیٹی کو ایک مرتبہ دبوچا تو مجھے دبوچنے اور عذابِ قبر کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔ پھر ایک فرشتہ نے آکر مجھے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر تخفیف فرمادی تو مجھے اس سے خوشی کے ساتھ اطمینان ہوگیا۔ قبر کا دبوچنا اس زورکاتھا کہ اس کی آواز مشرق و مغرب میں سنی گئی۔(2)(احیاء العلوم ج۴ ص۴۳۸)
1۔۔۔۔۔۔المسند للامام احمدبن حنبل،مسند جابربن عبداللہ،الحدیث:۱۴۸۷۹،ج۵، ص۱۴۲۔ مشکاۃالمصابیح،کتاب الایمان،باب اثبات عذاب القبر،الفصل الثالث،الحدیث ۱۳۵،ج۱،ص۴۷ 2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السابع،بیان سوال منکر ونکیر...الخ، ج۵،ص۲۵۹