| آئینہ عبرت |
فرشتہ پکارتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے لہٰذا اس کے لیے جہنم کا بستر بچھاؤ اور اس کو جہنمی لباس پہناؤ اور اس کی طرف جہنم کا ایک دروازہ کھول دو تو اس دروازے سے جہنم کی گرمی اور گرم ہوا اور بدبو قبر میں آتی رہتی ہے اور اس کی قبر اس قدر تنگ کردی جاتی ہے کہ میت کی دا ہنی پسلیاں بائیں طرف اور بائیں پسلیاں دا ہنی طرف ہوجاتی ہیں اور اس کے اوپر ایک اندھا بہرا (فرشتۂ عذاب) لوہے کے ایک ایسے گرز کے ساتھ مسلط کردیا جاتا ہے کہ اگر وہ اس گرز سے پہاڑ کو مارے تو پہاڑ مٹی ہو کر بکھر جائے، اسی گرز سے وہ فرشتۂ عذاب اس مردہ کو ایسی مار مارتا ہے کہ مشرق و مغرب کی ہر مخلوق سوائے انسانوں اور جنوں کے سب اس مار کو سنتے ہیں۔(1)(مشکوٰۃ ج۱ص۵ ۲وص ۲۶بحوالہ ابو داود)
حدیث :۳
حضرت ابوسعید خدر ی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ کافر کی قبر میں ننانوے اژدہے مسلط کردیئے جاتے ہیں جو اس کو کاٹتے اور ڈستے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے اور وہ اتنے زہریلے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک اژدھا ایک مرتبہ زمین پر پھونک مار دے تو زمین کبھی سبزی نہ اُگائے گی۔(2)(مشکوٰۃ ج۱ ص۲۲)
حدیث :۴
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دفن میں گئے جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نماز جنازہ پڑھا چکے اور
1۔۔۔۔۔۔سنن ابی داود،کتاب السنۃ،باب فی المسألۃ فی القبر،الحدیث:۴۷۵۳،ج۴، ص۳۱۶۔ مشکاۃ المصابیح،کتاب الایمان،باب اثبات عذاب القبر،الفصل الثانی، الحدیث۱۳۱،ج۱،ص۴۶ 2۔۔۔۔۔۔سنن الدارمی،کتاب الرقائق،باب فی شدۃعذاب النار،الحدیث:۲۸۱۵،ج۲، ص۴۲۶۔ مشکاۃ المصابیح، کتاب الایمان،باب اثبات عذاب القبر،الفصل الثانی،الحدیث۱۳۴،ج۱،ص۴۷