Brailvi Books

آئینہ عبرت
110 - 133
 پھر فرمایا کہ تم سب لوگ فتنہ دجال سے پناہ مانگو تو سب لوگوں نے کہا کہ ہم دجال کے فتنوں سے خداعزوجل کی پناہ مانگتے ہیں۔(1)(مشکوٰۃ ج۱ ص۲۵ بحوالہ مسلم)
حدیث : ۲
 حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ قبر میں دو فرشتے (منکر ونکیر) آتے ہیں اور میت کوبیٹھا کر اس سے سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ تو مومن کہہ دیتا ہے کہ میرا رب اللہ تعالیٰ ہے۔ پھر دوسرا سوال کرتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ تو مومن کہہ دیتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے۔ پھر تیسرا سوال کرتے ہیں کہ یہ مرد کون ہیں جو تمہاری طرف بھیجے گئے؟ تو مومن کہہ دیتا ہے کہ یہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ہیں۔ پھر آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے کہ میرا یہ بندہ سچا ہے لہذا اس کو جنتی بچھونے پر سلاؤ اور اس کو بہشتی لباس پہناؤ اور اس کی طرف جنت کا ایک دروازہ کھول دو تو اس دروازے سے قبر میں جنت کی ہوا اور خوشبو آنے لگتی ہے اور اس کی نظر کی درازی بھر اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔

    اور کافر سے جب منکر ونکیر سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے کہ ہائے ہائے میں تو کچھ جانتا ہی نہیں۔ پھر پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں توکچھ نہیں جانتا۔ پھر فرشتے سوال کرتے ہیں کہ یہ مرد کون ہيں جو تمہارے اندر بھیجے گئے ؟تو وہ کہتا ہے کہ ہائے ہائے میں تو کچھ بھی نہیں جانتا ۔تو آسمان سے ایک
1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الجنۃ،باب عرض مقعدالمیت،الحدیث:۲۸۲۷،ص۱۵۳۴۔ مشکاۃ المصابیح، کتاب الایمان، باب اثبات عذاب القبر، الفصل الاول، الحدیث: ۱۲۹، ج۱، ص۴۶
Flag Counter