| آئینہ عبرت |
مگر افسوس ہے اُس پر ،جو دنیا کی نَیرنگیاں دیکھنے کے باوُجُودبھی اس کے دھوکے میں مُبتَلارہے اور موت سے یکسر غافِل ہوجائے۔ واقعی جو دُنیوی زندگی کے دھوکے میں پڑکر اپنی موت اور قَبْر وحَشْر کو بھول جائے اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے ليے عمل نہ کرے ،نہایت ہی قابلِ مذمّت ہے۔ اِس دھوکے سے بچنے کے لیے ہمیں ہمارا پروَرْدْگار عَزَّوَجَلَّ خود تَنْبِیْہ فرمارہا ہے۔چُنانچِہ پارہ۲۲ سُورۃُ الفاطِر کی آیت نمبر ۵ میں ارشاد ہوتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا ٝ وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿۵﴾
(پ۲۲،الفاطر:۵)
ترجَمۂ کنز الایمان:اے لوگو!بےشک اللہ کا وعدہ سچ ہے تو ہر گز تمہیں دھوکہ نہ دے دنیا کی زندگی اور ہرگز تمہیں اللہ کے حلم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی (یعنی شيطان)۔
یقینا جو موت اور اس کے بعد والے مُعامَلات سے آگاہ ہے وہ دنیا کی رنگینیوں اوراس کی آسائشوں کے دھوکے میں نہیں پڑسکتا۔بہرحال حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں آکر ہم سخت آزمائش میں مبتلا ہوگئے ۔ ہماری آمد کا مقصد کچھ اور تھا مگر شاید ہم کچھ اور سمجھ بیٹھے۔ ہمارا انداز زندگی یہ بتا رہا ہے کہ معاذ اللہ گویا ہمیں کبھی مرنا ہی نہیں کیونکہ اگر موت ہمارے پیش نظر ہوتی تو ہم ہرگز غفلت میں نہ ہوتے۔ حدیث پاک میں ہے: ''لذتوں کو ختم کرنے والی (یعنی موت)کو کثرت سے یاد کرو۔''
( سنن الترمذی،کتاب الزہد،الحدیث۲۳۱۴،ج۴،ص۱۳۸)
ظاہر ہے جب انسان ہر وقت اس تصور کو اپنے ذہن میں رکھے گا کہ ''مجھے ایک دن اس دنیا سے خالی ہاتھ جانا ہے'' تو اس کی امیدیں بھی کم ہوں گی، حرص و طمع بھی نہیں ہوگی، الغرض وہ دنیا کی رنگینیوں میں منہمک رہنے