اس جہانِ فانی میں کسی کو ثبات نہیں،پھر بھی غافل لوگ فانی دنیا کی آسائشوں کے باعِث مَسرور وشاداں، زَوال و فنا سے بے خوف، موت کے تصوُّر سے ناآشنا، لذّاتِ دنیا میں بد مست ہیں۔ اس دارِ ناپائیدارمیں یکایک موت سے ہمکَنار ہونے کے اَندیشے سے نابلد،پُختہ و عمدہ مکانات کی تعمیر ات کرنے ، ان کو دیدہ زَيب اشیاء سے مُزَیّن کرنے میں مصروف ہیں۔ قَبْر کے اندھیروں اور اس کی وَحْشتوں سے بے نیازجگمگ جگمگ کرتی قِندیلوں اور قُمقُموں سے اپنے مکانوں کو روشن کرنے میں مشغول، اَہل وعِیال کی عارِضی اُنْسِیّت ،دوستوں کی وقتی مُصَاحَبت اور خُدّام کی خوشامدانہ خدمت کے بھرم میں قَبْر کی تنہائی کو بھولے ہوئے ہیں۔مگر آہ! یکایک فَنا کا بادَل گرجے گا،موت کی آندھی چلے گی اور دنیا میں تادیر رہنے کی ساری اُمّیدیں خا ک میں مل کر رہ جائیں گی، مُسرَّتوں اور شادمانیوں سے ہنستے بستے گھرموت ویران کردے گی اوران کے مکینوں کو روشنیو ں سے جگمگاتے قُصُور سے گُھپ اندھیری قُبُور میں منتقِل کردے گی۔