(۴) حضرت کعب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے کہ مردہ جب قبر میں وحشتوں کا منظر دیکھتا ہے تو بہت گھبراتا ہے اس وقت اس کے اعمال صالحہ یعنی نماز، روزہ ، زکوۃ، حج ، جہاد اور صدقہ وغیرہ اس کی وحشت اور گھبرا ہٹ کو دور کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ قبر میں جب عذاب کے فرشتے میت کے پاؤں کی طرف سے آتے ہیں تو نماز آکر کھڑی ہوجاتی ہے کہ ہٹو تم کچھ نہیں کرسکتے، اس نے نمازوں میں بہت لمبا لمبا قیام کیا تھا۔ پھر عذاب کے فرشتے میت کے سر کی جانب سے آتے ہیں توروزہ کھڑاہوکر کہتاہے کہ ہٹوتمہیں اس طرف سے کوئی راستہ نہیں ملے گااس نے دنیامیں روزہ رکھ کر خداعزوجل کے لیے بہت زیادہ پیاس برداشت کی تھی۔ پھر عذاب کے فرشتے میت کے دائیں بائیں سے آنا چاہتے ہیں تو حج و جہاد راستہ روک لیتے ہیں کہ اس نے خدا عزوجل کے لیے اپنے بدن کو بڑی تھکن میں ڈالا تھا۔ پھر عذاب کے فرشتے میت کے دونوں ہاتھوں کی طرف سے آنے لگتے ہیں تو صدقہ روک لیتا ہے کہ اس نے ہاتھوں سے صدقہ دیا تھا پھر عذاب کے فرشتے چلے جاتے ہیں اور رحمت کے فرشتے آجاتے ہیں اور اس کی قبر جہاں تک اس کی نظر جاتی ہے چوڑی کردی جاتی ہے اور اس کی قبر میں ایک قندیل جلادی جاتی ہے جس سے قیامت تک قبر میں روشنی رہے گی۔(2)
(احیاء العلوم ج ۴ ص۴۲۳ و۴۲۴)