Brailvi Books

آئینہ عبرت
107 - 133
باتوں سے لوگوں کو منع کیا کرتا تھا۔ یہ سن کر قبر کہتی ہے کہ اگر ایسا ہی تھا تو اب میں اس کے پاس ہریالی لاؤں گی اور اس کا بدن نور ہو کرمجھ سے نکلے گا اور اس کی روح اللہ تعالیٰ کے دربارِ رحمت تک رسائی حاصل کرے گی۔(1)(احیاء العلوم ج ۴ ص۴۲۳)
(۲)عبید بن عمیرلیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میت سے بوقت دفن قبر کہتی ہے کہ میں تاریکی کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں بے کسی کا گھر ہوں اگر تو اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار تھا تو آج میں تیرے لیے رحمت بن جاؤں گی اور اگر تو اللہ تعالیٰ کا نافرمان تھا تو میں تیرے لیے عذاب بن جاؤں گی، میں وہ جگہ ہوں کہ خدا عزوجل کے فرمانبردار بندے مجھ میں داخل ہونے کے بعد مسرور ہو کر نکلتے ہیں اور خداعزوجل کے نافرمان بندے مجھ میں داخل ہو کر رنجیدہ و غم زدہ ہو کر نکلتے ہیں ۔(2)

                     (احیاء العلوم ج ۴ ص۴۲۳)
(۳)محمد بن صبیح رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ جب قبر میں میت کو عذاب ہونے لگتا ہے تو دوسرے مردے اس سے کہتے ہیں کہ اے شخص ! کیا تو نے ہم لوگوں کا حال دیکھ کر کچھ بھی عبرت نہیں حاصل کی۔ ہمارے تو اعمال ختم ہوچکے تھے لیکن تو زندہ تھا اور تجھ کو کافی مہلت ملی لیکن تو نے اپنے اعمال کی کچھ بھی اصلاح نہیں کی۔ اے ظاہری دنیا پر فریب کھانے والے! تو نے ان لوگوں سے عبرت نہیں پکڑی جو تجھ سے پہلے ظاہری دنیا پر فریب کھا کر زمین کے اندر چلے گئے حالانکہ تو ہمیشہ دیکھا کرتا تھا کہ سب کے اقرباء و احباب
1۔۔۔۔۔۔اتحاف السادۃ المتقین،کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب السابع ،ج۱۴، ص۳۲۹

2احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السابع فی حقیقۃ الموت ...الخ، ج۵،ص۲۵۲
Flag Counter