Brailvi Books

آئینہ عبرت
106 - 133
سے بھی زیادہ خوف ناک و حیران کن ہے۔(1)(احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۲)

    اللہ اکبر!یہ ہے علم و عمل کے پہاڑوں اور آسمان ولایت کے چمکتے تاروں کا حال کہ یہ مقد س بندگانِ خدا اپنے علم و عمل کی عظمت کے باوجود کس حالت میں رہتے تھے اور خوفِ خداوندی عزوجل کے جذبات سے مغلوب ہو کر کیا کیا اور کیسے کیسے دل ہلا دینے والے کلمات بولا کرتے تھے ! ہم بے علم و بے عمل غافل انسانوں کے لیے ان مقدس بزرگوں کا حال بہت ہی عبرت انگیز و نصیحت آموز ہے۔واللہ تعالیٰ ھو الموفق
یا الٰہی !جب  بہیں آنکھیں حساب  جرم میں

اُن  تبسم  ریز  ہونٹوں  کی دعا کا ساتھ ہو

یا الہی!جب  حسابِ  خنده ٔ بے  جا رُلائے

چشم  گریانِ  شفیع   مُرتجٰي  کا  ساتھ  ہو

یا الہٰی!رنگ  لائیں  جب مری بے باکیاں

اُن  کی نیچی  نیچی نظروں کی حیاکا ساتھ ہو

                         (حدائقِ بخشش)
(۶)قبر آدمیوں سے کیا کہتی ہے؟
(۱) رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جب قبر میں مردہ رکھ دیا جاتا ہے تو قبر اس مردہ سے کہتی ہے کہ اے ابن آدم ! تو کس فریب میں پڑا رہا۔ کیا تجھے نہیں معلوم کہ میں فتنہ کا گھر ہوں، میں تاریکی کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں کیڑوں کا گھر ہوں تو کس گھمنڈ میں تھا جب تو لوگوں کو دھکا دیتا ہوا میرے اوپر سے گزرتا تھا۔ تو اگر مردہ نیک و صالح ہوتا ہے تو ایک فرشتہ اس کی طرف سے قبر کو جواب دیتا ہے کہ اے قبر ! یہ تو زمین پر لوگوں کو اچھی اچھی باتوں کا حکم دیتا تھا اور بری بری
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء،بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف،ج۴،ص۲۳۱
Flag Counter