لایا گیا وہ پل صراط پر چند قدم چلا اور جہنم میں گرگیا۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے چونک کر پوچھا کہ پھر کیا ہوا تو لونڈی نے کہا کہ پھر ولید بن عبدالملک لایا گیا تو وہ بھی چند قدم چل کر جہنم میں گرگیا۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے چونک کر سوال کیا کہ پھر کیا ہوا ؟ تو لونڈی بولی کہ پھر خلیفہ سلیمان بن عبدالملک لایا گیا تو وہ بھی تھوڑی دور پل صراط پر چل کر جہنم میں اوندھا ہو کر گر پڑا۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ آگے کا حا ل جلد بیان کر تو لونڈی نے کہا کہ اے امیر المومنین!رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پھر آپ لائے گئے۔ یہ سنتے ہی حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ چیخ مار کر بے ہوش ہوگئے تو لونڈی کان میں کہنے لگی کہ اے امیر المومنین!رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ میں نے دیکھا کہ آپ پل صراط سے پار ہو کر نجات پا گئے قسم کھا کھا کر کہنے لگی کہ آپ سلامتی کے ساتھ پل صراط سے پار ہوگئے مگر حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ برابر پاؤں پٹخ پٹخ کر چیخ مارتے اور روتے چلاتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔(1)(احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۳)