| آئینہ عبرت |
تین دن تک اس طرح مبہوت و حیران رہا کہ اسے فرض نمازوں کی بھی خبر نہیں ہوتی تھی۔(1) (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۱)
(۱۳) حضرت طاؤس رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بہت ہی نامور شیخ الحدیث تھے، اور بادشاہ اور گورنروں کو نصیحت کرنے میں مطلق خوف نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کے روبرو کلمہ حق علی الاعلان کہہ دیا کرتے تھے اور اس قدر بارعب تھے کہ کوئی آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا جواب دینے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا مگر خوف خداوندی کا یہ عالم تھا کہ بستر پر لیٹتے تو سانپ کی طرح کروٹ بدلتے رہتے پھر بستر لپیٹ کر رکھ دیتے اور فرمایا کرتے کہ جہنم کے ذکر نے خداعزوجل سے ڈرنے والوں کی نیندیں اڑا دی ہیں پھر تہجد پڑھ کر مسجد میں چلے جاتے اورنمازفجر اداکرکے اپنے مصلی پرقبلہ رو بیٹھے رہاکرتے تھے۔(2) (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۳)
(۱۴) حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
خلیفۂ عادل حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی لونڈی نیند سے بیدار ہوئی اور کہا کہ اے امیر المومنین! رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ میں نے ابھی ابھی ایک خواب دیکھا ہے تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کہا کہ بیان کرو تو لونڈی نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ جہنم بھڑک رہا ہے اور اس کی پشت پر پل صراط قائم کیا گیا ہے تو بنی امیہ کا خلیفہ عبدالملک
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء،بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف،ج۴،ص۲۳۰ 2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء،بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف،ج۴،ص۲۳۱