| آئینہ عبرت |
اس کے حال پر چھوڑ کر ہم ایک دوسرے عابد کے سامنے گئے تو اس کے سامنے بھی میں نے یہی آیت پڑھ دی، تو وہ بھی چیخ مار کر بے ہوش ہوگیا۔ پھر ہم لوگ تیسرے عابد کے پاس گئے تو میں نے اس کے سامنے یہ آیت پڑھ دی:
ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیۡ وَخَافَ وَعِیۡدِ ﴿۱۴﴾ ـ1ـ
یہ اس کے لیے ہے جو میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے اس سے خوف کرے۔(پ13ابراہیم آیت14)
تو وہ بھی چیخ پڑے اور ان کے نتھنوں سے اتنا خون بہا کہ وہ خون میں لت پت ہوگئے، یہاں تک کہ ان کی روح نکل گئی، اسی طرح میں نے ابن السماک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو چھ عابدوں کے پاس پھرایا اور جس کے سامنے میں نے آیت پڑھ دی وہ بے ہوش ہوگیا۔ پھر میں ساتویں عابد کے پاس ان کو لے کر چلا تو ایک عورت نے چھپر کے اندر سے ہم لوگوں کو بلایا جب ہم چھپر کے اندر داخل ہوئے تو ایک بوڑھا عابد اپنے مصلے پر بیٹھا ہوا تھا۔ ہم لوگوں نے سلام کیا تو اس کو ہمارے سلام کی خبر نہ ہوئی تو میں نے زور سے چلا کر کہا کہ
ان للخلق غدا مقاما
(یعنی کل قیامت میں ایک مقام پر تمام مخلوق کو کھڑا ہونا پڑے گا۔) تو اس بوڑھے نے کہا کہ کس کے سامنے؟ پھر وہ منہ کھولے اور آنکھ پھاڑے مبہوت بنارہا اور اوہ اوہ !کہتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کی بیوی نے ناراض ہو کر ہم کو اپنے گھر سے نکال دیا۔ پھر میں نے ایک دن ساتوں عابدوں کا حال معلوم کیا تو پتا چلا کہ تین تو ہوش میں آگئے اور تین وفات پاگئے اور ساتواں جو بوڑھا تھا
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:یہ اس کے لیے ہے جو میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے اس سے خوف کرے۔(پ۱۳،ابراہیم:۱۴)