جب جہنمی جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو دوبارہ اس میں ڈال دیئے جائیں گے ۔(پ 21، السجدۃ آیت20)
اس آیت کو سن کر وہ عابد زمین پر گر پڑے اور اسی دم ان کی روح پرواز کر گئی۔(2)
(احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۱)یہی صالح مری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابن السماک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جو نامور محدث اور باکمال واعظ و عابد تھے ہمارے یہاں آئے اور مجھ سے کہا کہ آپ اپنے یہاں کے عابدوں کے عجائب مجھے دکھلائیے تو میں ان کو محلہ کے ایک چھپر میں لے گیا تو وہاں ایک آدمی ٹوکری بنارہا تھا تو میں نے اس کے سامنے یہ آیت پڑھ دی کہ
اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیۡۤ اَعْنَاقِہِمْ وَ السَّلٰسِلُ ؕ یُسْحَبُوۡنَ ﴿ۙ۷۱﴾ فِی الْحَمِیۡمِ ۬ۙ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوۡنَ ﴿ۚ۷۲﴾ ـ3ـ
جب ان( جہنمیوں)کی گردن میں طوق اور زنجیریں ہوں گی وہ لوگ گھسیٹے جائیں گے کھولتے ہوئے پانی میں پھر آگ میں جلائے جائیں گے۔(پ24،المومن72)
تو آیت سن کر اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور بے ہوش ہو گیا پھر اس کو1۔۔۔۔۔۔ ترجمہ کنزالایمان:جب کبھی اس میں سے نکلناچاہیں گے پھر اسی میں پھیردیئے جائیں گے۔ (پ ۲۱ ،السجدۃ :۲۰) 2۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء،بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف،ج۴،ص۲۲۹ 3۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:جب ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں، گھسیٹے جائیں گے کھولتے پانی میں پھر آگ میں دہکائے جائیں گے۔ (پ۲۴،المؤمن: ۷۱،۷۲)