| آئینہ عبرت |
حضرت عطاء سلمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کبھی جنت کی دعا نہیں مانگتے تھے بلکہ ہمیشہ گناہ معاف ہونے کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ مرض الموت میں ان سے پوچھا گیا کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو کس چیز کی خواہش ہے ؟تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ جہنم کا خوف میرے دل میں کوئی خواہش پیدا ہونے ہی نہیں دیتا ۔اور لوگوں کا بیان ہے کہ چالیس برس تک حضرت عطاء سلمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے نہ آسمان کی طرف دیکھا نہ کبھی ہنسے۔ ایک مرتبہ بلا ارادہ آسمان کی طرف دیکھ لیا تو خوف سے کانپ کر گر پڑے اور ان کی آنت اتر آئی اور یہ بھی مشہور ہے کہ وہ راتوں کو اٹھ کر خدا عزوجل کے خوف سے اپنے بدن کو ٹٹولا کرتے تھے کہ کہیں میں مسخ تو نہیں ہوگیا ہوں۔(1)(احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۱)
( ۱۲) حضرت صالح مری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک عابد کے سامنے یہ آیت پڑھ دی کہ
یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡہُہُمْ فِی النَّارِ یَقُوۡلُوۡنَ یٰلَیۡتَنَاۤ اَطَعْنَا اللہَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوۡلَا ﴿۶۶﴾ ـ2ـ
جس دن ان کے چہرے جہنم میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے اور وہ یہ کہتے ہوں گے کہ کاش! ہم لوگوں نے اللہ و رسول کی اطاعت کرلی ہوتی۔(پ 22 الاحزاب آیت66)
یہ آیت سن کر وہ بے ہوش ہوگئے۔ پھر ہوش میں آئے تو انہوں نے کہاکہ اے صالح! رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کچھ زیادہ پڑھیے کیونکہ میں اپنے دل میں غم کی کیفیت محسوس1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء،بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف،ج۴،ص۲۲۸ 2۔۔۔۔۔۔ ترجمہ کنزالایمان:جس دن ان کے منہ الٹ الٹ کرآگ میں تلے جائیں گے کہتے ہوں گے ہائے کسی طرح ہم نے اللہ کاحکم ماناہوتااور رسول کاحکم ماناہوتا۔(پ ۲۲، الاحزاب : ۶۶)