خطیبِ پاکستان حضرت مولیٰنا محمد شفیع اوکاڑَوی علیہ رحمۃ اللہ القوی زبرد ست عاشقِ رسول تھے۔مدینہ منوَّرہمیں سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ کو ۱۴۱۷ھ میں سا کِنِ مدینہ منوَّرہ حاجی غلام شبّیر صاحِب نے یہ ایمان افروز واقِعہ سُنایا،'' ایکبار حضرتِ قبلہ سیِّد خورشید احمد شاہ صاحِب نے مجھ سے فرمایا ،ایک دن مدینہ منوَّرہمیں حضرت خطیبِ پاکستان مولیٰنا محمد شفیع اوکاڑَوی علیہ رحمۃ اللہ القوی میرے پاس روتے ہوئے تشریف لائے اور کہنے لگے ،''آپ میرے ساتھ مُواجَھَہ شریف پر چلئے میں نے سرکارِ نامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے مُعافی مانگنی ہے ۔''اِستِفسار پر بتایا ،کل مسجِدِ النَّبَویِّ الشّریف علیٰ صاحِبِہَا الصلوٰۃ والسلام میں ایک بے ادب مقرِّر نے اللہ کے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شانِ عظمت نشان میں توہین کی، تو میں نے اُس کوٹوکا، اِس پر بات بڑھ گئی اور اُس کے حمایَتی آگئے ،ان لوگوں نے مجھ پر سختیاں کیں جس سے میں بَہُت دلبرداشتہ ہوا ۔رات خواب میں جنابِ رسالت مآب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف لائے اور فرمایا ،''بس میری خاطِر تھوڑی سی سختی بھی برداشت نہ کرسکے !''حضرت قبلہ اوکاڑَوی صاحِب کا کہنا تھا ،بات دَراصل یہ ہے کہ دل میں ذرا بڑائی آگئی اور تذلیل کو میں نے اپنی کسرِ شان تصوُّر کیا، اِسی لئے حُضُورِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے