Brailvi Books

آدابِ طعام
447 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود شریف پڑھو اللہ تعالی تم پر رحمت بھیجے گا۔
مجھے تَنبِیہ فرمائی ۔لہٰذا میں سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے دربارشریف میں حاضِر ہوکر اپنے خطرہ دِلی کی مُعافی مانگنا چاہتا ہوں ۔ اللہ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
       (حدائقِ بخشِش شریف )
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
(۵۶)امدادِ مصطَفےٰ کی ایمان افروز حکایت
    سبحٰن اللہ عَزَّوَجَلَّ عاشِقوں کی بھی کیا خوب ناز برداریاں کی جاتی ہیں ! معلوم ہواسرکارِ نامدار،مدینے کے تاجدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم باِذنِپَروَردگار عَزَّوَجَلَّ اپنے غلاموں کے اَحوال و اَفکار سے ہر وَقت خبر دار رَہتے ہیں اوربَسا اوقات خواب میں دیدارسے مُشرَّف فرماکر ان کی امداد اور اِصلاح کرتے ہیں اس ضمن میں ایک اور ایمان افروز حِکایت مُلا حَظہ ہو۔ چُنانچِہ 

     حضرتِ سیِّدُنا شیخ  یُوسُف بن اسمٰعیل نبہانی
قُدِّسَ سِرُّہُ الرَبَّانی
نے ایک حِکا یت نَقل کی ہے ،ایک خُراسانی حاجی صاحِب ہر سال حج کی سعادت پاتے اور جب مدینہ منوَّرہ
زادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً
حاضِر ہوتے تو وہاں ایک عَلَوی بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا طاہِر بن یحیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں نذرانہ پیش کرتے ۔ایک بار
خاک ہوکر عشق میں آرام سے سونا ملا

جان کی اِکسیر ہے  الفت رسولُ اللہ  کی
Flag Counter