میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ واقِعہ دعوتِ اسلامی کے اَوائل(یعنی شروع کے دنوں )کا ہے ۔ جب ۱۴۰۱ ھ میں بابُ المدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے نام سے مَدَ نی کام کا آغاز کیا ،اُس وَقت بابُ المدینہ میں موزوں جگہ پر کسی بڑی مسجِد کی ترکیب نہیں تھی جہاں ہفتہ وار سُنّتوں بھرا اجتمِاع کیا جاسکے۔ان دنوں میں(سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ )عُلَماء ومَشائخِ اَہلسنّت کی خدمت میں حاضِر ہوکر دعوتِ اسلامی کے ساتھ تعاوُن کی درخواستیں پیش کیا کرتا تھا ۔کیوں کہ میر ادرد تھا اور مجھ پر ایک دُھن سُوار تھی کی مسلمانوں کے عَقائد کے تحفُّظ اور اصلاحِ احوال و اعمال کا وسیع پیمانے پر مَدَ نی کام کیا جائے ۔ میرے درد کو الفاظ کے قالِب میں کچھ اس طرح ڈھالا جا سکتا ہے ،
مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشِش کرنی ہے (ان شاء َاللہ عَزَّ وَ جَلَّ )
بَہَرحال اِسی ضمن میں دعوتِ اسلامی کیلئے تعاوُن کی مَدَ نی التجاء لئے خطیبِ پاکستان ،واعِظِ شیریں بیان ،عاشقِ سلطانِ دوجہان،مُحِبِّ اہلبیت و صَحابہ ذیشان، جان نثارِ اولیاء ُالرَّحمن حضرت علامہ مولیٰنا الحافظ الشّاہ محمد شفیع اوکاڑوی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے مکانِ عالی شان پر حاضِر ہوا ،میں نے اُن کی خدمت میں دعوتِ اسلامی کے بارے میں عَرض کی تو بَہُت خوش ہوئے اور اپنے دستخط (دَسْتْ۔ خَط)