صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کے ولی ہونے کیلئے تشہیر و اشتہار ، نُمایاں جُبّہ و دستار اور عقید تمندوں کی لمبی قِطا رہونا ضَروری نہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ جسے چاہے نواز دے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے اولیاء رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی کو بندوں کے اندر پوشیدہ رکھا ہے لہٰذا ہمیں ہر نیک بندے کا احترام کرنا چاہئے، ہمیں کیا معلوم کہ کون گدڑی کا لعل(یعنی چُھپاولی)ہے!ایک بارمیں(سگِ مدینہ
دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلے میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سفر پر تھا، ہمارے ڈِبّے میں ایک دبلا پتلابے ریش و بے کشش لڑکاانتِہائی سادہ لباس میں ملبوس سب سے جُدا کھویا کھویا سا بیٹھا تھا۔کسی اسٹیشن پر ٹرین رُکی، صِرف دو مِنَٹ کا وقفہ تھا ،وہ لڑکا پلیٹ فارم پراتر کر ایک بَینچ پر بیٹھ گیا۔ ہم سب نے نَمازِ عصر کی جماعت قائم کر لی، ابھی بمشکل ایک رَکْعت ہوئی تھی کہ سیٹی بج گئی لوگوں نے شور مچایا کہ گاڑی جا رہی ہے۔ سب نَماز توڑ کر ٹرین کی طرف لپکے تو وہ لڑکا کھڑا ہو گیا اور اُس نے مجھے اشارہ سے ڈانٹتے ہوئے نَماز قائم کرنے کا حکم صادِر کیا! ہم نے پھر جماعت قائم کر