Brailvi Books

آدابِ طعام
439 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) جس نے مجھ پر دس مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
صاحِب رُوبہ صحّت ہو کر خوش خِرامی کے ساتھ ٹہل رہے تھے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 			صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
(۵۲)روشن ضَمیر نانبائی
حضرتِ سیِّدُنا سَہل بن عبداللہ تُستَری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے ایک موقع پر فرمایا کہ بصرہ کا فُلاں نا نبائی (یعنی روٹیاں پکانے والا )ولیُّ اللہ ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ایک مُرید شوقِ دیدار میں بصرہ پہنچا اور ڈھونڈتا ہوا اُس نانبائی کی خدمت میں حاضِر ہوگیا، وہ اُس وقت روٹیاں پکا رہے تھے(پہلے عُمُوماً سبھی مسلمان داڑھی رکھتے تھے لہٰذا اس دور کے نان بائیوں کے دستور کے مطابِق)داڑھی کے بالوں کی جلنے سے حفاظت کی خاطِر مُنہ کے نچلے حصّے پر نِقاب پہن رکھا تھا۔ اُس مُرید نے دل میں کہا، اگر یہ وَلی ہوتا تو نِقاب نہ بھی پہنتا تو اس کے بال نہ جلتے ۔ اِس کے بعد اُس نے نانبائی کو سلام کیا اور گُفتُگُو کرنا چاہی تو اُس روشن ضمیر نانبائی نے سلام کا جواب دیکر فرمایا، '' تو نے مجھے حقیر تصوُّر کیا اِس لئے میری باتوں سے نَفع نہیں اُٹھا سکتا۔'' یہ کہنے کے
 باپ    بیمار   ہو،   سخت    بیزار    ہو 	             پائے  گا   صِحّتیں،   قافِلے  میں چلو

 واہو بابِ کرم ،دُور ہوں سارے غم   	              پھر سے خوشیاں ملیں، قافِلے میں چلو
Flag Counter