میٹھے میٹھے اسلامی بھا ئیو! دیکھا آپ نے !ہما ر ے اسلا ف رَحِمَہُمُ اللہُ تعالیٰ حُصو لِ عِلْم کی خاطِر کس قَدَ ر تکلیفیں برداشت کر تے تھے۔فاقوں پر فاقے کرکے انہوں نے عِلْم دین حاصِل کیا، انتِہائی جا نفِشانی ا ورخوب عَرَق ریزی کے ساتھ تصنیفات وتالیفات کے مُشکبار مَدَنی گلدستے تیاّر کر کے ہماری طرف بڑھائے ۔مگر افسوس !اب اکثر مسلمان ان کی طرف بِالکل بھی اِلتِفات نہیں کرتے۔ ان بُزُرگوں کوسرما یہ آخِرت کی طلب اورلگن تھی اور آج کے مسلمانوں کی اکثریت کو صِرف دُنیا کا دَھن کمانے کی دُھن ہے۔ اِس حکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے بُزُرگانِ دین
پر جب کڑا وَقت آتا تو نہا یت ہی دِل جَمعی کے ساتھ بارگاہ ِرسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں حا جت روائی کیلئے فریاد کرتے ۔ سرکارِ نامدارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دربار میں دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی صدا ضَرور مَسمُوع ہوتی (یعنی سنی جاتی )ہے۔ میرے آقا اعلیٰحضرت ،عا شقِ ماہِ ر سالت مولیٰنا شاہ احمدرضاخان علیہ رحمۃُ الرحمن حد ائقِ بخشش شریف میں فرماتے ہیں۔ ؎