(تذکِر ۃُالحُفَّاظ ج ۳ ص۱۲۱)
اللہ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
میں ان کے درپرپڑا رہوں گا پڑے ہی رہنے سے کام ہو گا
نگاہ ِ رَحمت ضَرور ہو گی طعام کا انتِظام ہو گا
حضرتِ سیِّدُ نا اِبنُ الْمقری اور حضرت سیِّدُنا اَبُوالشَّیخ رَحِمَہُمَا اللہُ تعالیٰ اپنی قِیا م گا ہ پر تشریف لے آئے۔ تھوڑی دیر کے بعد کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا،دروازہ کھو لا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عَلَوی بُزُرگ دو غلاموں کے ساتھ کھا نا لئے کھڑے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ آپ حضرات نے دربارِ رسول میں بھوک کی شکایت کی تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوّجَلَّ ابھی ابھی خواب میں نبیِّ رَحمت،قا سمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی زِیارت سے مُشرَّ ف فر ما کر مجھے حکم فر مایا کہ میں آپ لوگوں کے پاس کھاناپہنچا دُوں۔ چُنانچِہ جو کچھ بر وَقت مجھ سے ہو سکا حاضِر کر دیا ہے آپ حضرات قَبول فرما لیجئے ۔