(مزید فرمایا)جب ہم نے اس(قرآنِ مجید )میں دیکھاتویہ پایا کہ اللہ تعالیٰ کی مَحَبَّت اور اس کی رِضا کی طلب سے زیادہ لذّت کسی شے میں حاصل نہیں ہوتی
(نَوادرُالاصول لِلحکیم الترمذی ص۶۸ا )
اللہ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
نہ پوچھ ان خرِقہ پوشوں کی عقیدت ہے تو دیکھ ان کو
یدِ بَیضاء لئے ہیں اپنی اپنی آستینوں میں
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
(۵۰)بھو کے طَلَبَہ کی فریاد
مشہو ر مُحَدِّثینِ کِرام حضر تِ سیِّدُنا امام طَبَر انی ،حضرتِ سیِّدُ نا علامہ ابنُ المقری اورحضرتِ سیِّدُنا ابوالشَّیخ رَحِمَہُمُ اللہُ تعالیٰ تینو ں مدینہ منوَّرہ
زادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً
میں علمِ دین حا صِل کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان پر فاقہ مَستی کا دور آیا ۔ روزہ پر روزہ رکھتے رہے مگر جب بھو ک کی شدّت نے با لکل ہی نڈھال کر دیا تو