| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اُس نے مجھ پر درودِ پاک نہ پڑھا تحقیق وہ بد بخت ہوگیا۔
چیزوں کو چھوڑا اُن سے محفوظ رَہناان کی صِفَت ہے اُن کی یہ صِفَت جدا نہیں ہوتی کہ آج خَشِیَّت کی حالت میں ہوں اور کل غفلت میں پڑے ہوں بلکہ وہ اپنے حال پر ہمیشگی اِختِیا ر کرتے ہیں،وہ اپنے اوراپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے درمیان ایک خاص تعلُّق رکھتے ہیں ،انھیں آندھی والی ہوااور بے باک گھوڑے نہیں پہنچ سکتے، اُن کے دل اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خوشی (رِضا)اور شوق میں آسمان کی طرف بُلند ہوتے ہیں پھر
(پارہ اٹھائیسواں سورۃُ المُجادَلۃ
کی) آیت (نمبر ۲۲)تِلاوت فرمائی
اُولٰٓئِکَ حِزْبُ اللہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾
(ترجَمہ کنزالایمان:''یہ اللہ عزوجل کی جماعت ہے، سُنتاہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے '') راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی:''اے ابو دَرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ !جو کچھ آپ نے بیان فرمایا اس میں کون سی بات مجھ پر بھاری ہے؟ مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ میں نے اُسے پا لیا ؟''فرمایا:''آپ اِس کے درمیانے دَرَجے میں اُس وَقت پہنچیں گے جب دُنیا سے بُغض رکھیں گے اورجب دنیا سے بُغض رکھیں گے تو آخِرت کی مَحَبَّت اپنے قریب پائیں گے اور آپ جتنا دُنیا سے زُہد(بے رغبتی)اِختیا ر کریں گے اُتنا ہی آپ کو آخِرت سے مَحَبَّت ہو گی اورجتناآپ آخِرت سے مَحَبَّت کریں گے اُتنا ہی اپنے نَفْع اور نقصان والی چیزوں کو دیکھیں گے ۔(مزید فرمایا)جس بندے کی سچی طلب علمِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ ميں ہوتی ہے اس کوقَول وفعل کی دُرُستی عطافرمادیتا اور