کے نام ہیں،آپ ایک باکرامت بُزُرگ تھے چُنانچِہ مولانا کرم دین(خطیب جامِع مسجِد چک نمبر ۳۵۶ گ ب )بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ڈھانہ کَھوکَھر انوالہ نزد شَرَقْپور شریف بھینس لینے گیا۔ لیکن اِس سفر میں مجھے دردِ شَقِیقہ(یعنی آدھے سر کے درد)نے بَہُت پریشان کیا۔شَرَقپور شریف قریب ہی تھا ، وَہاں حاضِر ہوا مگر پتا چلا کہ دونوں صاحِبزادگان حج کے لئے گئے تھے۔ واپَس جاتے ہوئے راستہ میں دَرد نے بَہُت پریشان کیا، کوئی تدبیر سمجھ میں نہ آرہی تھی ، نَہَر کے کَنارے چلتے چلتے سامنے کاغذ کا ایک سادہ ٹکڑا نظر آیا، میں نے اُسے اٹھایا اور اس پر ولئ کامِل حضرتِ مُحَدِّث اعظم پاکستان علیہ رحمۃ المنّان کامبارَک نام لکھ کر درد کی جگہ باندھا، آپ کے نام کا تعویذ باندھنا تھا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ درد فوراًجاتا رہا اور طبیعت بِالکل دُرُست ہو گئی۔ ( ایضاً ۲۶۱)