خیال ہے کہ ایک بکرا ذَبح کر کے جامِعہ رضویہ کے لنگر میں پیش کر دوں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا،'' حکیم صاحِب ! یہاں تو اللہ تعالیٰ کا کرم ہے ، بکرے آتے ہی رہتے ہیں ، بہتر یہ ہے کہ جُمُعہ کو گھر میں گوشت اور روٹیاں پکائی جائیں اور جُمُعہ کی نَماز کے بعد خَتم شریف پڑھا جائے ، پکا ہوا گوشْتْ روٹیوں سمیت وَہیں غُرَباء میں تقسیم کیا جائے۔ تم میاں بیوی بھی کھاؤ اوراس میں سے وہاں کے لنگڑے لُولوں کو بھی حصّہ ملے۔'' یہ یاد رہے کہ خواب کا ذکر کرتے وَقت میں نے لنگڑے لُولوں کے مُتَعَلِّق بُزُرگ کا ارشاد قبلہ مُحَدِّث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم سے عرض نہیں کیا تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خود ہی ارشاد فرمایا اور یہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زندہ کرامت تھی کہ غیب کی بات بتا دی! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ارشاد کے مطابِق عمل کیا گیا ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم اور حضرتِ مُحَدِّثِ اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دعاؤں کے صَدْقے بیٹا عنایت فرمایا۔